اسلام آباد(پی این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا وزارتِ خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب۔وزیر خارجہ نے کہا کہ : میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ ہماری دعوت پر تشریف لائے۔قبلہ ء اول مسجد اقصٰی میں جو بربریت ہو رہی ہے۔ اس پر ہمیں گہری تشویش ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات میں اس حوالے سے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا۔ترک وزیر خارجہ سعودی عرب میں سعودی حکام کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کریں گے۔ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا ترکی کی طرح ٹھوس موقف ہے ۔ترک وزیر خارجہ او آئی سی کے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے بات کریں گے۔ ستاسویں کی رات نہتے لوگوں کو اقصٰی مسجد میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ان پر گرینڈوں سے اور ربر بلٹس سے حملہ کیا گیا ۔پاکستان اس بربریت کی شدید مذمت کرتا ہے ۔نہتے شہریوں پر حملے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے؟ میری گذشتہ رات وزیر اعظم عمران خان صاحب سے بھی بات ہوئی اور انہیں بھی میں نے اعتماد میں لیا ۔جرمنی ایران، اردن اور بہت سے ممالک نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ء سعودی عرب غیر معمولی نوعیت کا تھا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خود وزیر اعظم عمران خان کو خوش آمدید کہنے کیلئے ایرپورٹ تشریف لائے۔ہمارے اور سعودی عرب کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں ۔جنہیں اس دورے نے نئی جہت دی۔اس دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک ادارہ جاتی میکنزم تشکیل پایا ہے۔اس ادارہ جاتی میکنزم کے خدوخال ہم نے طے کر لیے ہیں۔بیروزگاری ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید ورک فورس کی ضرورت ہو گی۔اگلے چند سالوں میں انہیں 10 ملین افرادی قوت درکار ہو گی ۔ور وہ پاکستان سے خاصی تعداد لینے کے خواہشمند ہیں۔سعودی عرب کے دورہ کے دوران پانچ ایم او یووز پر دستخط ہوئے۔دو معاہدے وزارتِ داخلہ سے متعلقہ ہیں۔ہائیڈرو پاور، متبادل توانائی کیلئے ہمیں سعودی فنڈ سے 500 ملین ڈالر کی رقم فراہم کریگا۔کلوزگروپ ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف اور میں خود شریک تھا۔اس کلوز میٹنگ میں کشمیر کے معاملے پر ہم نے کھل کر اپنا موقف پیش کیا۔ صورت حال کو خراب ہندوستان نے کیا ہے ۔اگر ہندوستان ان اقدامات پر نظرثانی کرتا ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ میری سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات ہوئی جو کافی سودمند رہی۔عید الفطر کے بعد سعودی حکام کا ایک وفد پاکستان آئیگا اور ہم باہمی معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔سعودی وزیر خارجہ تشریف لائیں گے اور ہم سعودی ولی عہد کے اگلے دورہ پاکستان کے امور طے کریں گے۔آرمی چیف جنرل باجوہ نے افغانستان کا دورہ کیا۔ ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں ۔کابل میں سکول پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ہم افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم افغانوں کے باہمی مذاکرات سے افعان مسئلے کے سیاسی حل کے خواہشمند ہیں۔جب انخلاء کا عمل شروع ہو چکا ہے۔افغانستان میں قیام امن کی ذمہ داری افغان قیادت پر ہے۔افغانستان میں قیام امن سے پاکستان اور پورا خطہ مستفید ہو گا۔گوادر مختصر تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔ہماری جغرافیائی اقتصادی ترجیح کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھی یہ انتہائی اہم ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو سعودی عرب میں سفارت خانے کے حوالے سے کچھ شکایات موصول ہوئیں ۔جس پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مجھے جس طرح اس کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کی گئی اس پر تحفظات ہیں ۔اس میڈیا تشہیر کا فائدہ ہندوستان نے اٹھایا اور پاکستانی سفراء کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سفارتخانوں میں قونصلر سروسز سے وابستہ کچھ افسران ایسے بھی تعینات ہوتے ہیں ۔جو براہ راست وزارت خارجہ کے ماتحت نہیں ہوتےہم اس حوالے سے جامع تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔کارکردگی کی بہتری کیلئے جامع تجاویز بھی مرتب کر رہے ہیں۔ جنہیں ہم وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں جلد پیش کریں گے۔پاکستان اپنے مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کیلئے پرعزم ہے۔پاکستان، افغانستان کی ترقی کے ساتھ ہے۔ پاکستان کسی فریق کے ساتھ نہیں۔افعان حکومت اور طالبان کے مابین جنگ بندی معاہدہ خوش آئند ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ہم امن میں شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں۔سب سے زیادہ ذمہ داری افغانوں پر عائد ہوتی ہے۔دوست ممالک کا کردارہمیشہ مصالحانہ ہوتا ہے۔پاکستان میں کوئی بیس منتقل نہیں ہو رہے۔پاکستان نے ہمیشہ طالبان کو بھی مذاکرات کی راہ اپنانے کی ترغیب دی ہے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی بات کی ہے۔آپ نے اس کا نتیجہ دوحہ میں امن معاہدے کی صورت میں دیکھا۔اگر عید کے بعد استنبول کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے تو چیزیں مزید بہتری کی جانب جائیں گی۔کشمیر کا مسئلہ سیاست سے بالاتر ہے۔پاکستان کا موقف انتہائی ٹھوس اور واضح ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ہندوستان کا آرٹیکل 370 کشمیریوں کو ایک اسپیشل سٹیٹس دیا گیا ۔جب اسے ختم کیا گیا تو تمام کشمیریوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا اور ہم نے بھی کیا5 اگست 2019 کے بعد ہماری کاوشوں سے تین دفعہ مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا گیا.35 اے کے خاتمے کے ذریعے ہندوستان آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔وہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل رہے ہیں۔ ہمیں اس پر شدید تشویش ہے۔کشمیر، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے ۔پھر یہ ہندوستان کیلئے اندرونی مسئلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فی الحال ہندوستان کے ساتھ کوئی ٹاکس نہیں ہو رہیںلیکن اگر ہندوستان مذاکرات چاہتا ہے تو انہیں کشمیریوں پر جاری مظالم کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔اگر بھارت کشمیریوں کا تشخص بحال کر دے تو یہ Conducive environment کے قیام کی جانب قدم ہو گا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا وزارتِ خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب



