اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)نیب کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی۔ پریس ریلیز کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب شوگر سبسڈی ، آٹا سکینڈل،منی لانڈرنگ،فیک اکائونٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال ، آمدن سے زائد اثاثوں ، غیر قانونی اور جعلی ہائوسنگ سوسائیٹیوں کی طرف سے عوام کے اربوں روپے لوٹنے کے میگا کرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچنے کیلئے کسی دبائو، پریشر اور دھمکی کی پروان کئے بغیر قانون کے مطابق اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا تاکہ قوم کے اربوں روپے لوٹنے والی بڑی مچھلیوں اور ان بااثر افراد جن سے ماضی میں ان کی غیر قانونی منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے بارے پوچھنے کے بارے میں نہ سوچا جا سکتا تھا۔اور نہ ہی کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی مگر نیب نے قانون کے مطابق ایسے تمام عناصر کے خلاف بدعنوانی کے 1269ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جہاں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب اور بدعنوانی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتےجبکہ نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ تین سالوں مین قوم کے 487ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بر آمدکرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جوکہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب پر تنقید کرنیوالوں کو نیب کا مشورہ ہے کہ پہلے نیب آرڈیننس اور نیب کے قیام سے اب تک کارروائی کا جائزہ لیں اور حقائق کو دیکھ کر بات کریںکیونکہ نیب نے قیام سے اب تک نہ صرف 790ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کروائے ہیں جو کہ کسی دوسرے انسداد بدعنوانی کے ادارے کی کارکردگی سے ہزار درجہ بہتر کارکردگی ہے۔

نیب پر تنقید کرنیوالے پہلے حقائق کو دیکھیں پھر بات کریں، چئیرمین نیب نے نیب کی کارکردگی بتا دی



