لاہور(نیشنل ٹائمز)پنجاب اسمبلی کے اسپیکر جناب چودھری پرویز الٰہی کی مفتی منیب الرحمن صدر تنظیم المدارس اہل ِسنت پاکستان اور مولانامحمد حنیف جالندھری سیکرٹری جنرل وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ جناب چودھری پرویز الٰہی نے فرمایا کہ صوبائی اسمبلی کو بائی پاس کر کے قومی نصابِ تعلیم میں کسی کو یک طرفہ جوہری تبدیلی کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، علماء کرام اطمنان رکھیں ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا جو نظریہ پاکستان سے متصادم ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ بیوروکریسی کی طرف سے یہ انتشار پیدا کرنے کی منظّم سازش ہے۔ ان دونوں حضرات نے چودھری پرویز الٰہی کا شکریہ ادا کیااور اس امر پر اتفاق کیا کہ قوم کو تقسیم کرنے کی ایسی سازشوں کا بروقت سدِّباب کیا جائے گا۔مفتی منیب الرحمن اور قاری محمد حنیف جالندھری نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح ایک فرد سابق ریٹائرڈ بیوروکریٹ ڈاکٹر شعیب سڈل کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار مل گیا اور پنجاب مائنارٹی کمیشن نے کس اتھارٹی کے ساتھ اسے نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے جبکہ ابھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایسے کوئی احکامات جاری بھی نہیں کیے۔انھوں نے عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب گلزار احمدسے اپیل کی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے نام پراس کی منظوری کے بغیر اس پیش رفت کا نوٹس لیا جائے، جو ملک کے دینی طبقات میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔انھوں نے کہا، ہم غیر مسلم پاکستانی شہریوں کے تمام جائز قانونی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن کسی کویہ حق ہرگز نہیں دیا جاسکتا کہ اٹھانوے فیصد اکثریت پر اپنی مرضی مسلّط کرے اور اسلام اور اسلامی شعائر کو اس ملک میں اجنبی بنائے، نیز تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے بنیادی فلسفے کی نفی کرے۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں اس طرح کے کمیشن چھپ چھپاکر نہیں بنائے جاتے، ان کی تشکیل کو متوازن بنایا جاتا ہے، ان کے مینڈیٹ کو پبلک کیا جاتا ہے اور ان کی سفارشات پر رائے عامہ معلوم کی جاتی ہے،مگر یہاں پسِ پردہ سب کچھ ہوجاتا ہے اور اس کے بعد جب ردِّعمل آتا ہے تو ناقابلِ قبول تاویلات وتوجیہات پیش کی جاتی ہیں۔
صوبائی اسمبلی کو بائی پاس کر کے قومی نصابِ تعلیم میں کسی کو یک طرفہ جوہری تبدیلی کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی



