اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی آج دو روزہ دورہ ء ترکی کامیابی کیساتھ مکمل کر کے وطن واپس لوٹیں گے ۔وطن واپسی سے قبل، اس دو روزہ دورہ ء ترکی کے حوالے سے وزیر خارجہ کا اہم ویڈیو پیغام۔
میرا ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اوغلو کی دعوت پر ترکی کے دو روزہ دورے پر استنبول آنا ہوا تاکہ ترکی کی میزبانی میں منعقدہ “استنبول کانفرنس” میں شرکت کر سکوںاس کے ساتھ ساتھ سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس بھی رکھا گیا جس میں پاکستان، افغانستان اور ترکی کے وزراء کو شرکت کرنا تھیجیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ یہاں بھی کرونا وبا کی صورتحال خاصی پیچیدہ ہے اور ترکی میں تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں کرونا وبا کی پیچیدہ صورت حال کے باوجود، افغانستان کے مسئلے کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس کانفرنس کا انعقاد ہو بدقسمتی سے استنبول کانفرنس طالبان کے شرکت نہ کر سکنے کے باعث منعقد نہ ہو سکی چنانچہ اس کانفرنس کو ملتوی کرنا پڑا لیکن پاکستان، ترکی اور افغانستان، تینوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنی “سہ فریقی انگیجمنٹ” کو جاری رکھیں چنانچہ “استنبول میں” سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا ہم نے اس سہ فریقی اجلاس میں افغان امن عمل کے حوالے سے تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہم نے افغان امن عمل کے بعد کی صورتحال ، افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی استحکام کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال کیاسہ فریقی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جو یقیناً آپ کی نظر سے گزرا ہو گا – یہ علامیہ کافی جامع اور مفصّل تھامجھے خوشی ہے کہ اس دورہ کے دوران میری ترک وزیر خارجہ جناب میولوت چاوش اوغلو اور افغان وزیر خارجہ محمد حنیف آتمر کیساتھ الگ الگ دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں ان ملاقاتوں میں ہمیں دو طرفہ تعلقات پر نظر ڈالنے کا موقع ملا افغان امن عمل میں نئ روح پھونکنے اور سہ فریقی اجلاس کے انعقاد پر، میں ترکی کا خصوصی طور پر شکرگزار ہوں غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ جموں و کشمیر کے معاملے پر مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر بھی میں، ترک قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر ترکی کی حمایت پاکستانیوں اور بالخصوص کشمیریوں کیلئے بہت حوصلہ افزائی کا باعث ہےہم نے پاکستان اور ترکی کے مابین “اعلیٰ سطحی اسٹریٹیجک تعاون کونسل”(HLSCC ) کے آیندہ منعقد ہونیوالے سمٹ لیول اجلاس”کی تیاریوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی اس سمٹ لیول اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور صدر رجب طیب اردگان شرکت کریں گےافغان ہم منصب محمد حنیف آتمر کیساتھ بھی میری ملاقات بہت سود مند رہیہم نے افغان امن عمل کی تازہ ترین صورتحال پر بات کی ہم نے ویزہ ایشوز پر گفتگو کی میں نے افغان وزیر خارجہ کے ساتھ “پاکستانی قیدیوں” کی رہائی کا نکتہ اٹھایا – جو خفیف جرائم (petty crimes ) کی پاداش میں، افغانستان کی جیلوں میں قید ہیں میں شکر گزار ہوں افغان وزیر خارجہ جناب محمد حنیف آتمر کا ، جنہوں نے مجھے اس معاملے پر مثبت ردعمل دیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا مجھے استنبول میں مقامی و بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کا بھی موقع ملا میں نے خطے کی صورتحال، ہندوستان کی صورتحال، افغان امن عمل ،افغانستان کی تعمیر نو سمیت بہت سے علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا نکتہء نظر پیش کیا معروف چینلز “ٹی آر ٹی ورلڈ” اور ایناڈولو(Anadolu) نیوز ایجنسی کے ساتھ بھی میں نے اہم نکات پر گفتگو کی اور پاکستان کا موقف پیش کیا۔
وطن واپسی سے قبل دو روزہ دورہ ء ترکی کے حوالے سے وزیر خارجہ کا اہم پیغام



