اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی وزارتِ خارجہ ایران آمد ۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا خیر مقدم کیا ۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ایران کے مابین “سرحدی تجارتی مراکز” کھولنے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ایرانی وزیرخارجہ ڈاکٹرجوادظریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں شرکت۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور ایران میں استوارقریبی تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی تعلقات کو اجاگر کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے حامل علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں کی استواری، سکیورٹی، ثقافتی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔ملاقات میں سرحد پرمشترکہ مارکیٹ مقامات کے قیام، نئی سرحدی راہداریاں کھولنے اور عوامی رابطے بڑھانے پر بھی گفتگو۔ اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالقومی اداروں میں باہمی اشتراک عمل مضبوط بنانے پر بھی ملاقات میں بات چیت کی گئی۔ دونوں جانب سے دوطرفہ، علاقائی امن اور معاشی ثمرات سے متعلق موجودہ مشترکات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کی کوششوں میں مسلسل سہولت کاری اور مدد کے پاکستانی عزم کو دوہرایا افغانستان سے غیرملکی افواج کا انخلاءاور امن عمل میں پیش رفت ساتھ ساتھ ہونی چاہئے۔ پاکستان اور ایران کا، افغان فریقین کے اشتراک سے افغانستان سے غیرملکی فوج کے ذمہ دارانہ انخلاءکی ضرورت پر اتفاق۔دونوں ممالک کا عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کے لئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کو غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے زور دیا کہ کشمیریوں کے خلاف جرائم پر عالمی برادری بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کرے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر کے پرامن حل کے لئے عالمی برادری کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے حالیہ بیان پر ڈاکٹر جوادظریف کو خراج تحسین پیش کیا دونوں وزرائے خارجہ کا خاص طورپر بعض یورپی ممالک میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ دونوں جانب سے اسلاموفوبیا کے رجحان کے سدباب کے لئے مسلمان ممالک کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے کام جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ بارڈر مارکیٹ پلیسز کے قیام سے باضابطہ قانونی ذرائع سےباہمی مفاد میں تجارت ممکن ہو گی۔اس اقدام سے پاکستان اور ایران کی سرحد پر رہنے والی آبادی کو معاشی فوائد حاصل ہوں گےْدونوں وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مند پشین انٹرنیشنل بارڈر کراسنگ کھلنے کو سراہا۔ مند پشین انٹرنیشنل بارڈر کراسنگ 19دسمبر2020 کو غبد ریمدان کے افتتاح کے پانچ ماہ بعد کھولی گئی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام بھی کیا۔وزیر خارجہ نے بھرپور میزبانی اور والہانہ خیر مقدم پر ایرانی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی وزارتِ خارجہ ایران آمد



