اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے وزٹ کے دوران افسران سے خطاب۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں نے اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے رحجان پر گفتگو کی۔مغرب میں جس طرح شدت پسند طبقہ اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہا ہے ہمیں اس پر گہری تشویش ہے۔ہم آزادی ء اظہار رائے کے خلاف نہیں ہیں اظہار رائے کے حق کا تحفظ آئین بھی دیتا ہےلیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آزادی ء اظہار رائے کی آڑ میں کسی کی دل آزاری کی جائے۔ آپ کے علم میں ہے کہ پچھلے دنوں کچھ ایسے بیانات اور خاکے سامنے آئے جس سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری مسلم امہ کی دل آزاری ہوئی۔ پاکستانی قوم ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد شدید کرب اور دکھ سے گزریپاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے۔ ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہمارا جو غلامی اور عشق کا دعویٰ ہے۔ اس کا اظہار وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ کے فلور پر کیا ۔مجھے اللہ تعالیٰ نے مسلم ممالک کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں موقع دیا کہ میں نے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد پیش کی۔ جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا وہ قرارداد ہماری سوچ اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے ۔پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اس حوالے سے متفقہ طور پر قرار داد منظور ہوئی ۔مجھے خوشی ہے کہ میرے جذبات، تاثرات اور خیالات کا احترام کیا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی پارلیمان کو بھی پاکستان کی مقننہ کی طرح اس پر آواز اٹھائی چاہیے ۔میں نے انہیں تجویز دی کہ پاکستان اور ایران کے علماء متفقہ طور پر اس یلغار کا دانشمندی سے مقابلہ کرنے کیلئے، مل کر حکمت عملی بنائیں ۔ہم نے مشترکہ طور پر ایک سمت کا تعین کیا ہےمیرا بطور وزیر خارجہ یہ فرض بنتا تھا کہ میں اپنی قوم کے جذبات کو آگے پیش کروں ۔ہم نے جس جدوجہد کا آغاز اقوام متحدہ اور نیامے سے کیا تھا آج اس آواز کو تہران میں بھی اٹھایا ہے۔ میں جلد ترکی جاؤں گا اور ترک وزیر خارجہ سے بھی اس حوالے سے تبادلہ ء خیال کروں گا ۔میں ترک صدر طیب اردگان اور وزیر خارجہ کے عقیدے سے واقفیت رکھتا ہوں۔ ان کی سوچ، ہماری سوچ سے مطابقت رکھتی ہے۔ مسلم امہ کیلئے سعودی عرب کی اہمیت سے سب واقف ہیں ،مجھے انشاء اللہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جلد سعودی عرب جانے کا موقع میسر آئیگا۔ سعودی وزیر خارجہ اور سعودی قیادت کے ساتھ بھی اس حوالے سے گفتگو ہو گی ۔میری رائے میں پاکستان،سعودی عرب، ترکی، ایران جب مل کر یہ علم اٹھائیں گے تو مجھے یقین ہے کہ پوری امہ ایک نکتے پر متفق ہو جائے گی۔ ہم نے اکٹھے ہو کر اس اسلاموفوبیا کو عالمی سطح پر اٹھانا ہےان فورمز پر اٹھانا ہے۔ جہاں سے اقلیت میں آوازیں اٹھتی ہیں اور ہمارے جذبات کو مجروح کرتی ہیں۔تب ہی ہماری آوازوں میں یکسوئی اور consensus پیدا ہو گا اور ہم اس فتنے سے نجات پا سکیں گے۔دنیا اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ اٹھتا ہے۔ اس کے حل کیلئے مشترکہ کاوشیں کرنا پڑتی ہیںکئ ایسی مثالیں موجود ہیں ۔جب کسی اقلیتی تعداد نے کسی کام کا بیڑا اٹھایا اور جدوجہد کی تو کامیابی حاصل ہوئی۔ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی اور اب وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پر انشاءاللہ جمعہ کے روز وزارت خارجہ میں اس معاملے کو مزید زیر بحث لایا جائے گا۔ہم اس حوالے سے آواز اٹھاتے رہیں گے اور میرا ایمان ہے کہ ہمیں کامیابی ضرور ملے گی ۔انشاءاللہ
وزیر خارجہ کا تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے وزٹ کے دوران افسران سے خطاب



