اسلام آباد:پاکستان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے ۔ ملک بھر میں شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیںاور ہزاروں جانیں جاچکی ہیں ۔ شدید مالی و جانی نقصان ہوا ، فصلیں تباہ ہوئی ، انفراسٹکچر تباہ ہو گیا۔ ایسے مشکل حالات کا مقابلہ ہمیں ملکر کرنا ہو گا اور متحد ہونا پڑے گا۔پاکستان میں جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان، اور خیبر پختون خوا کے شمالی علاقے اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہاں لوگوں کو اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا دُکھ سہنے کے علاوہ مالی نقصانات بھی اُٹھانا پڑے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ اِس وقت متاثرین کو آپ کے مالی تعاون اور ہمدردی کی بھی ضرورت ہے۔ بے گھر ہونے والے افراد کی ایک بڑی تعداد یا تو عارضی طور پر لگائے گئے خیموں میں مقیم ہے یا کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہے۔اس قدر بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی اور اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جنم لینے والی فوری ضروریات کے پیشِ نظر حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے۔ فوج کو ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں حصہ لینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔حکومتی اداروں کے مطابق سیلاب زدگان کی امداد کے لیے بڑے پیمانے پر اشیائے خورد و نوش، ادویات اور خیموں وغیرہ کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے صورتحال نمٹنے کے لیے عوام سے متاثرہ افراد کی امداد کرنے کی اپیل کی ہے۔یہ وقت دکھی انسانیت اور متاثرہ خاندانوں کے آنسو پونجھنے اور انسانی ہمدردی کا حق ادا کرنے کا ہے۔ مشکل اور تکلیف میں گھرے انسانوں کو دکھ تکلیف اور مصیبت سے نکالنے کیلئے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ مخیر حضرات بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کیلئے دل کھول کر مدد کریں۔ مشکل وقت اور آفت زدہ حالات میں صاحب استطاعت اور مخیر حضرات پر بھی فرض ہے کہ وہ ایمانی انسانی اخلاقی رشتوں کے تقاضے پورے کریں۔ زرعی زمینیں فصلیں گھر بار سیلاب جانیں املاک سیلابی ریلا نگل چکا ہے۔ اب وقت ہے کہ انسانیت پر اس مشکل وقت میں داد رسی کی جائے۔جیسے جیسے سیلاب متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ان کی ضروری اشیاء کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق نقد ریلیف کی مد میں 7 ارب روپے سے زائد کی ضرورت ہے، جب کہ اشیاء خرُد ونوش کے علاوہ دیگر اشیاء کی فراہمی کے لیے تقریباً 9 ارب روپے درکار ہیں اور تقریباً 2 ارب روپے طبی اخراجات پر خرچ ہونے ہیں۔مویشیوں کو بچانے کے لیے 9 ارب روپے سے زائد کی ضرورت ہے، جبکہ امدادی عمل کو تیز کرنے کے لیے تقریباً 5 ارب روپے کا سامان درکار ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر متاثرین کے تقریباً 82,000 گھروں کی تعمیر نو کے لیے 41 ارب روپے درکار ہیں۔پینے کا صاف پانی،خشک ایندھن جیسے لکڑی، مٹی کا تیل وغیرہ،خشک اشیاء خُورو نوش جیسے بسکٹس، پاپے وغیرہ،آٹا، دال اور چاول، چینی وغیرہ اس کے ساتھ منرل واٹر کی بوتلیں، خشک میوہ جات جیسے بھنے ہوئے کالے چنے، گڑ ، بادام اور کھجور وغیرہ۔۔ خشک دودھ (بچوں کے لیے) اور ڈبے والا دودھ دیگر استعمال کے لیے۔ سلے ہوئے کپڑے جو آسانی سے پہن سکتے ہیں۔اس طرح کی کئی اشیا سیلاب زدگان کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ ہمیں ان مسائل سے نکلنے کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے۔پوری قوم آگے بڑھے اور اس مشکل وقت میں اپنے ان بھائیوں کا ہاتھ تھامے جو آج مشکل میں ہیں تو یقیناََ ہم جلد ان مسائل سے نکل آئیں گے۔ انشا اللہ
تقسیم ختم کرکے متحد ہونے کا وقت آگیا، سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ہم سب کو ملکر ہاتھ بڑھانا ہو گا، وطن عزیز کو مشکلات سے نکالنے کا واحد حل اتحاد ہے



