سان فرانسسكو(نیشنل ٹائمز): ملیریا اس وقت بھی عالمی سطح پر جانوں کا خراج وصول کرنے والی اہم ترین بیماری ہے۔ اس ضمن میں اینٹی باڈی تھراپی کی انسانی آزمائش شروع کی گئی تھی۔ اس طرح فیزون ہیومن ٹرائل کے بہت امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔شائع شدہ نتائج کے مطابق سائنسدانوں نے ملیریا سے بچانے والی اینٹی باڈی بنائی اور اسے ویکسین کی طرح رضا کاروں کو لگایا گیا ۔ اس کے بعد تمام تندرست افراد کو جان بوجھ کر ملیریا والے ماحول میں رکھا گیا جس کا مقصد انہیں ملیریا کا مریض بنانا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ایک بھی رضاکار ملیریا کے چنگل میں نہیں آسکا۔بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے ’میڈیسن فور ملیریا وینچر‘ نامی تنظیم کے اشتراک سے یہ اینٹی باڈیز بنائی ہے جو ویکسین کی جگہ استعمال کرائی گئی۔ ایل نائن ایل ایس نامی مونوکلونل اینٹی باڈیز ایک ٹیکے سے رضاکاروں کو دی گئی۔ فیزون مرحلے میں کل 17 تندرست افراد بھرتی ہوئے۔ انہیں مختلف خوراکیں دی گئیں۔
ملیریا کے خلاف نئی اینٹی باڈی تھراپی کے حوصلہ افزا نتائج برآمد



