اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)ترکی نے عراق کی جانب سے اس کے صوبے دہوک میں راکٹ حملہ کرنے کا الزام مسترد کر دیا۔ بدھ کے روزعراق اور ترکی کے درمیان سرحد پر واقع علاقے کردستان ریجن کے شہر زاخو کے ریزورٹ حملے میں 8 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق نے حملے کا الزام ترکی پر لگایا اور ترک سفیر کو طلب کر کے حملے پر احتجاج کیا۔ عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الخادمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ترک افواج نے عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ صدر برہم صالح نے بھی حملے کی مذمت کی۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترکی نے عراق میں شہریوں پر حملہ نہیں کیا،عراق کسی دھوکے میں نہ آئے۔ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ عراق میں ریزورٹ پر دہشت گرد حملہ ہوا۔دوسری جانب امریکا نے کہا کہ وہ عراق کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ شہریوں کا قتل ناقابل قبول ہے اور تمام ریاستوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے، جس میں شہریوں کا تحفظ بھی شامل ہے۔
ترکی نے عراق کیجانب سے صوبے دہوک میں راکٹ حملہ کرنے کا الزام مسترد کردیا



