تحقیق و تحریر: زاہد حسین
اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)قدرت نے الفاظ میں وہ تاثیر رکھی ہے کہ دل سے نکلے الفاظ کبھی کبھی تصویر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کراچی کے ان شہریوں سے بات کی جائے، جنہوں نے 1980ء کی دہائی کا کراچی دیکھا ہے تو یقیناً ایسے پر تاثیر الفاظ آپ ان سے سنیں گے کہ آپ کے ذہن میں کراچی کی جیتی جاگتی تصویر ابھر آئے گی۔ کراچی کے شہری کلفٹن کے ساحل پر بِتائی ہوئی اپنی شامیں کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ سورج کا سونا سمندر میں گھُلتا تو ساحل پر ایک الگ ہی منظر ہوتا تھا۔ ساحل پر اندھیرا ہوتا تو ساحل سے قریب موجود کلفٹن کے فن لینڈ کی لائٹیں روشن ہوجاتیں اور یوں ساحل پر پُرسکون شام گزرنے والے شہری اپنے بچوں کے ساتھ فن لینڈ آکر ہلا گلا بھی کرتے۔ فن لینڈ پہنچ کر گاڑی پارک کریں تو آپ کے سامنے جو عمارت ہوتی تھی، اسے “ماہی خانہ” کہا جاتا تھا، انگریزی میں کلفٹن اکویریم کہا جاتا۔ یہاں کی دنیا ہی الگ تھی، جہاں زمین پر بسنے والے انسان سمندر میں بسنے والی مخلوق کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے اور حیران ہوتے۔ موٹے موٹے شیشوں کے پیچھے پانی میں تیرتی مچھلیاں اور دیگر سمندری مخلوق بھی یقیناً اس ایکویریم میں آنے والے انسانوں کو دیکھنے کے انوکھے تجربے سے گزرتی ہوگی۔ اس وقت کراچی میں سینٹرلی ایئر کنڈیشنڈ صرف دو مقامات تھے، ایک پرنس سینما اور ایک کلفٹن کا یہ ماہی خانہ۔ یہ شہر کا واحد ایکویریم تھا، جس تک عوام کی رسائی تھی۔ آج یہ ماہی خانہ بند ہوچکا ہے اور اسے بند ہوئے اب دو دہائیاں بیت چکی ہیں۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک عوام کے لیے بند رہنے والے اس ایکویریم کو جس طرح نظر انداز کیا گیا اور اس کے ساتھ جو انتظامی بے سلوکی کی گئی، وہ کراچی کی تاریخ کا بڑا المیہ ہے۔اس ایکویریم کا افتتاح 1965 میں اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے کیا تھا۔ یہ ایکویریم کراچی کے باسیوں اور دیگر شہروں سے یہاں آنے والے لوگوں کے لیے ایک منفرد تجربے کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں لوگ مختلف قسم کی مچھلیوں اور سمندری مخلوق کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ان سے بات چیت کرنے کا ایک انوکھا تجربہ کرتے۔ یہ ایسا تجربہ ہوتا، جس کا کوئی عام آدمی اس وقت صرف تصور ہی کرسکتا تھا۔پندرہ سو مربع فٹ پر تعمیر کردہ اس بڑے ہال میں سینتالیس ایکویریم تھے۔ جن میں سے تینتیس سمندری پانی سے بھرے ہوئے تھے۔ ان میں سمندری مچھلیوں کو رکھا گیا تھا، اور چودہ تازہ پانی کے ایکویریم تھے جن میں تازہ پانی میں رہنے والی مچھلیوں کی مختلف اقسام کو رکھا گیا تھا۔ یہ شہر کا واحد فش ایکویریم تھا، جہاں ہر سال 10 لاکھ افراد آتے تھے۔ یہ KMC کے لیے سب سے بڑے ریونیو جنریٹرز میں سے ایک تھا۔ یہاں ایک بڑا حوض بھی تھا، جس میں مگر مچھ موجود تھا، بعد میں یہاں سے مگر مچھ غائب ہوگیا اور اس کی جگہ بڑے کچھووں کو رکھ دیا گیا تھا۔ سمندری ایکویریم میں سمندری مچھلیوں کے علاوہ سمندر میں بسنے والی دیگر مخلوق بھی موجود تھی، ان میں دریائی گھوڑا، مگر مچھ اور کچھووں کی مختلف اقسام بھی شامل تھیں۔ اس ایکویریم میں ہمہ وقت ہر عمر کے لوگوں کو ہجوم لگا رہتا تھا۔ اس کے ٹکٹوں کی بڑی تعداد میں فروخت سے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے کروڑوں کا منافع کمایا اور اسی کمائی سے ادارے نے سیکڑوں افراد کے لیے روزگار پیدا کیا اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگیاں کیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی کے کٹاؤ کے باعث ساحل اصل مقام سے دور ہوتا گیا اور ساتھ ساتھ وقت کا گھُن ایکویریم کی عمارت کو بھی کھاتا رہا۔ 1998 تک وقت کا عفریت اس عمارت کو اس قدر چاٹ گیا کہ اس کا ایک حصہ منہدم ہوگیا اور عمارت کا دیگر حصہ مخدوش ہوگیا، اس وجہ سے اس بڑی عوامی سہولت کو عوامی حفاظت کے پیش نظر بند کردیا گیا۔اس اکیوریم کے عوام کے لیے بند ہونے کے بعد یہاں موجود بیش تر سمندری حیات کو واپس سمندر میں ڈال دیا گیا اور عمارت کی مرمت اور اسے دوبارہ کھولنے کے وعدوں اور دعووں کے ساتھ اس سہولت کو کے ایم سی کے ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ میں منتقل کردیا گیا۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرت کی حکومت کے دوران پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں عمارت کے بیرونی حصے میں کچھ مرمتی کام بھی کیا گیا، جو کہ باغ ابنِ قاسم کی تزئین و آرائش کے کام کے دوران کیا گیا تھا۔ دھندلی دیواریں، گرتے ہوئے ستون، اور بے شمار لوہے کی سلاخیں جو چھت سے لٹکتی ہیں، اب اسے دیکھ کر کفِ افسوس ہی ملا جاسکتا ہے، لیکن اس کے ابتدائی دور میں یہاں ہر عمر کے لوگ آتے تھے۔ اگرچہ گزشتہ چوبیس برسوں میں تمام ہی حکومتوں نے ایکویریم کو عوام کے لیے دوبارہ کھولنے کے عزم کا اظہار کیا، لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے کلفٹن ایکویریم اب تک بحال نہیں کیا جاسکا اور جو عوام کے لیے اب تک ناقابلِ رسائی ہے۔کئی برس قبل کے ایم سی کے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمان نے انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کلفٹن ایکویریم ایک بڑا منصوبہ ہے، جس کے لیے ایک بڑی رقم کی ضرورت ہے۔ایکسپریس ٹریبیوں ہی سے بات چیت کے دوران سینئر ٹیکسانومسٹ اور کراچی یونیورسٹی میں میرین ریفرنس کلیکشن اینڈ ریسورس سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدیر محمد علی کا کہنا تھا کہ سمندر میں نباتاتی مخلوق کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی نظام کو سمجھنے کے لیے سمندری حیات کے بارے میں آگاہی انتہائی ضروری ہے اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بحیرہ عرب کی وسیع ساحلی پٹی پر واقع ہونے کے باوجود ہمارے پاس سمندری حیات کے لیے کوئی ایکویریم نہیں ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں متعدد ایکویریم ہونے چاہئیں۔ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اس ایکویریم کو بحال کرنے میں خاصی دلچسپی دکھائی ہے اور انہوں نے رواں برس فروری میں اس کی بحالی کے کام کا آغاز کرا دیا ہے۔ اس کی بحالی کے کام میں تقریباً 80 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ بحالی کا کام مکمل ہوتے ہی ایکویریم کو عام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ باغ ابن قاسم کلفٹن میں فش ایکویریم کی بحالی کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ایک نیا طریقہ متعارف کروا رہی ہے، جس میں شہریوں کی شرکت ضروری ہے۔ کلفٹن میں واقع فش ایکویریم میں بچپن کی یادیں تازہ ہیں۔ ایکویریم 130 ایکڑ پر پھیلے باغ ابن قاسم سے متصل ہے۔ بچپن میں یہاں آنے والوں کو مچھلی گھر کی سیر آج بھی یاد ہے۔ پھر بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں شہر کی دیگر چیزیں خراب ہوئیں وہیں یہ ایکوریم بھی نہ بچ سکا اور شہری اس سہولت سے محروم ہوگئے۔ موجودہ انتظامیہ نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کئے اور خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ فش ایکویریم طلبا اور محققین کو سمندری زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا اور ساحل کے قریب شہریوں کو ایک اور بہترین تفریحی اور معلوماتی سہولت فراہم کرے گا۔اب تک اس ایکویریم کو بحال کرنے کے متعدد بار اعلانات کیے گئے۔۔ سنہ 2005 کے مارچ اور پھر اکتوبر میں اسے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ شہری حکومتوں کی جانب سے 2007-2008 کے بجٹ، اور پھر 2008-2009 کے بجٹ میں، اور دوبارہ اگلے مالی سال 2009-2010 کے بجٹ میں اضافی فنڈز مختص کیے گئے، لیکن ایکویریم کی بحالی ممکن نہ ہوسکی۔ 2012 میں بھی اس وقت کی حکومت نے اس کی بحالی کا کام شروع کیا تھا، تاہم یہ ایکویریم آباد نہیں ہوسکا تھا۔ اب امید کی جارہی ہے کہ جب اس کی بحالی کیلئے ایک بڑی رقم جاری کی جاچکی ہے اور ایڈمنسٹریٹر کراچی اس کی بحالی کیلئے سرگرم بھی ہیں، تو نہ صرف یہ ایکویریم بحال ہوگا بلکہ یہاں کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہوجائیں گی اور سمندری حیات کو دیکھنے کے خواہشمند افراد اور اس شعبے سے منسلک طلبہ یہاں آگر تفریح کے ساتھ ساتھ قدرت کی اس مخلوق کو ایک بار پھر کھلی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے بلکہ اپنی تحقیق کے لیے اس کا مثبت استعمال کرسکیں گے۔
گم ہوتا کراچی کلفٹن کا ماہی خانہ



