تہران(نیشنل ٹائمز)ایران کی جوہری تنصیب کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے سائبر حملے کا نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ یہ ایک سائبر حملہ تھا جو موساد نے کیا ہے جس کے نتیجے میں تنصیب کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچا ہے۔ اس حملے کے بعد نطنز میں بجلی منقطع ہوگئی تھی۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق محکمہ ایٹمی توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے نطنز میں واقع جوہری تنصیب میں حادثے کی تصدیق کی۔اب ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے بیان میں کہا ہے کہ اس تنصیب پر دہشت گردی کا حملہ ہوا ہے۔ ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی اسے ایٹمی دہشت گردی قرار دیا۔ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی واقعے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کا اسرائیل بدلہ لینا چاہتا ہے۔بہروز کمالوندی نے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے میں جوہری تنصیب کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی پلانٹ کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے یورینیئم کے پھیلنے کو بھی خارج از امکان قرار دیا۔ایک روز قبل ہی ایران نے اس جوہری تنصیب میں 164 آئی آر-6 سینٹری فیوجز کا باقاعدہ افتتاح اور نئی یورینیئم افزودگی آئی آر-9 کا عمل شروع کیا تھا۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ویانا میں یورپی یونین کے توسط سے عالمی جوہری معاہدے کے دیگر فریقین کی موجودگی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جس میں امریکا کی 2015 کے عالمی معاہدے میں واپسی اور ایران پر سے عائد پابندیوں کے خاتمے پر گفتگو جاری ہے۔ 2018 میں اس معاہدے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں بھی نطنز کی جوہری تنصیب میں دھماکہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری ایران نے اسرائیل پر عائد کی تھی۔ امریکا ایران کے اس جوہری تنصیب کا ہمیشہ سے سخت ناقد رہا ہے۔
ایران کے جوہری پلانٹ پر اسرائیل کا سائبر حملہ



