اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) حکومت نے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ناممکن قرار دے دیا ، وزیر توانائی خرم دستگیر کہتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں البتہ آنے والے دنوں میں لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی ہوگی ، غروب آفتاب کے وقت مارکیٹس بند کرنے کی تجویز پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے ۔ سولر انرجی ایسوسی ایشن کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان میں اب درآمدی پٹرول، کوئلہ اور ڈیزل سے بجلی بنانا مکمل نہیں ، ہمیں سستی بجلی ہائیڈل، سولر اور ونڈ پر جانا ہوگا ، بجٹ میں سولر پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا جائے گا ، ہمیں مستقبل میں سستی بجلی پر انحصار کرنا ہوگا جب کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سابق حکومت کا 56 سو ارب روپے کا ملک کو مقروض کرکے جانا ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 500 میگاواٹ سے بھی زیادہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے تاحال بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے کیوں کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کل طلب 26 ہزار 500 میگاواٹ ہے لیکن بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار 924 میگاواٹ ہے جس کی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 576 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے ، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، زیادہ نقصان والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی زیادہ ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پانی سے 5 ہزار 219میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ، سرکاری تھرمل پلانٹس 1 ہزار 284 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں ، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 9 ہزار 764 میگاواٹ ہے، ونڈ پاور پلانٹس 1ہزار 190 میگاواٹ اور سولرپلانٹس سے پیداوار صفر ہے، بگاس سے چلنے والے پلانٹس 189 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں، جوہری ایندھن 2ہزار 278 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔



