اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) حکومت کی جانب سے آئندہ ایک ہفتے کے اندر بڑھتے ہوئے پینشن اخراجات اور اس کے اثرات کا اندازع اور مطالعہ کے لیے ایک ایکچوریل فرم کی خدمات حاصل کرے گی کیونکہ حکومت تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی کے موجودہ نظام کو غیر مستحکم سمجھتی ہے۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے پے اینڈ پینشن کمیشن (پی پی سی) نرگس سیٹھی کو کہا کہ ‘تنخواہ اور پینشن کی تقسیم کا موجودہ ماڈل پائیدار نہیں ہے، ایکوئٹی کو یقینی بنانے کے لیے عدم توازن کو ختم کرکے تنخواہوں، پینشن، الاؤنسز وغیرہ کو عقلی بنانے کی ضرورت ہے’۔وزیر خزانہ نے پی پی سی سربراہ سے یہ بھی کہا کہ وہ ‘ایسی کوئی راہ تلاش کریں جو شفاف، قابل عمل اور پائیدار طویل مدت میں موجود ہو’۔اسلام آباد: حکومت کی جانب سے آئندہ ایک ہفتے کے اندر بڑھتے ہوئے پینشن اخراجات اور اس کے اثرات کا اندازع اور مطالعہ کے لیے ایک ایکچوریل فرم کی خفمات حاصل کرے گی کیونکہ حکومت تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی کے موجودہ نظام کو غیر مستحکم سمجھتی ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے پے اینڈ پینشن کمیشن (پی پی سی) نرگس سیٹھی کو کہا کہ ‘تنخواہ اور پینشن کی تقسیم کا موجودہ ماڈل پائیدار نہیں ہے، ایکوئٹی کو یقینی بنانے کے لیے عدم توازن کو ختم کرکے تنخواہوں، پینشن، الاؤنسز وغیرہ کو عقلی بنانے کی ضرورت ہے’۔وزیر خزانہ نے پی پی سی سربراہ سے یہ بھی کہا کہ وہ ‘ایسی کوئی راہ تلاش کریں جو شفاف، قابل عمل اور پائیدار طویل مدت میں موجود ہو’۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اعلی افراط زر کے دباؤ کے منفی اثرات کی وجہ سے بدامنی کے پیش نظر آنے والے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پینشنرز کو ریلیف فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔تاہم مستقبل قریب میں پینشن کے نظام میں بہت بڑی اصلاح ممکن نہیں جس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ پی پی سی کی تشکیل تقریبا دو سال قبل ہوئی تھی تاہم پی پی سی اور وزیر اعظم کی ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری کی مسابقتی ہدایات کی وجہ سے وہ زیادہ تر غیر فعال رہا جس کے نتیجے میں پی پی سی کے سابقہ چیئرمین نے متعلقہ اداروں کی عدم تعاون کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔پی پی سی کی تشکیل نو چار ماہ قبل ہوئی جہاں سابق سیکریٹری نرگس سیٹھی کو اس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تاہم نیا پی پی سی کووڈ 19 کی حدود کی وجہ سے رفتار نہیں بڑھا سکا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ پنشن بجٹ کے اخراجات اور نقد کے بہاؤ کے بارے میں مفصل مطالعہ کرنے کے لیے ایکچوری فرم کی تقرری نہیں کی جاسکی جو تیزی سے غیر مستحکم سطح تک بڑھ رہی ہے۔ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا ایک کمپنی کو پہلے ہی شارٹ لسٹ کرلیا گیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی تقرری کردی جائے گی اور وہ اپنا کام مکمل کرنے میں کم از کم 6 ماہ کا وقت لے سکتی ہے۔وزیر اعظم کے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کو راحت کے لیے خواہش کے پیش نظر پی پی سی اپنی عبوری سفارشات دے بھی دے سکتی ہے
حکومت نے پینشن اخراجات اور اس کے اثرات کا اندازہ اور مطالعہ کے لیے ایک ایکچوریل فرم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا



