اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) ٹاپ سٹی کے کچھ حصہ پر قبضہ مافیا کی قبضہ کرنے کی ناکام کوشش قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے۔ ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ بدنامِ زمانہ ناصر بھنگو موقع سے فرارہوگیااور اپنی گاڑیاں توڑ کر ٹاپ سٹی کے خلاف مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ناصر بنگو چوہدری آف بجنیال کی اس حرکت کی وجہ سے سب کچھ صاف ظاہر ہوگیا ۔سستے داموں اسٹامپ پیپر پر ٹاپ سٹی کی ملکیتی زمین حاصل کرنے والے درجنوں لوگ بھی پریشان ہیں۔چوہدری آف بجنیال ناصر بنگو جیسے بدنامہ زمانہ قبضہ گروپ نےکروڑوں روپے کاچونا لگا دیا۔
اپنے آپ کو لواحقین ظاہرکرنے والے آپس میں پھٹ پڑے ۔دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کوئی ملکیتی ثبوت بھی نہ دے پائے ۔ایئر پورٹ کے نزدیک آئے روز اس طرح ڈرامہ لگانے والوں کے خلاف قانون جلد حرکت آجا ے گا ۔ٹاپ سٹی کے ملک قمر مویز خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک دفعہ پھر ناکام کوشش کی گئی۔جبکہ قمر مویز خان نے قانون ہاتھ میں نہ لیا اور قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آج بھی عدالت میں پیش ہوئے اور 26 تاریخ کو پھر پیش ہونے جا رہے ہیں۔ ٹاپ سٹی کو بہتر سے بہتر بنانے کا عزم رکھنے والے قمر مویز خان آگے بڑھنے کی لگن رکھتے ہیں اورٹاپ سٹی کو راولپنڈی تک نہیں بلکہ پاکستان کی بہترین ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔جس میں رہائشوں کے لئے بہترین سہولیات موجود ہیں۔ ٹاپ سٹی کی جانب سے واضح ا علان ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی ملکیت ظاہر کرےتو زمین دینے کو تیار ہیں۔دوسری جانب چوکی انچارج ڈھوک حمیدہ تھانہ نصیر آباد کو ہائی کورٹ کی جانب سے دائر ایک مقدمے میں غفلت برتنے کی وجہ سے معطل کردیا گیا۔ جس کا گزشتہ روز کے وقوع سے کوئی تعلق نہیں۔
جبکہ ٹاپ سٹی کی مخالف پارٹی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے گزشتہ روز کے مقدمے پر چوکی انچارج کو معطل کیا گیا ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کردار ادا کرکے پاکستان میں کاروباری شخصیات کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے ۔پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں اوریہ سوسائٹی کے نام پر رہائشیوں کو بہترین سہولیات مہیا کر رہے ہیں ۔یاد رہے کہ ٹاپ سٹی ٹیکس جمع کروانے کے حوالے سے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کاروباری شخصیات کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے اورقبضہ گروپوں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے تاکہ وہ کاروباری شخصیات کو بلیک میل نہ کر سکیںاور ان کی پگڑیاں نہ اچھال سکیں ۔گزشتہ روز ہونے والا واقعہ جس میں قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ جس میں زیر استعمال موبائل فون کی لوکیشن مختلف ظاہر کی گئی تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ موقع پر چودھری آف بجنیال اور باقی لوگ موجود نہ تھے۔



