اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ مراسلے میں دھمکی ملی،تحریک عدم اعتماد کا ذکربھی ہوا، چیف جسٹس تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنائیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نےمبینہ سازش کے حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس معاملے کی تحقیقات اورسماعت کیلئے بااختیارعدالتی کمیشن قائم کریں،حکومت کی تبدیلی کی مبینہ سازش کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کا خط وزیراعظم پاکستان اورچیف جسٹس کو بھیج رہا ہوں،پاکستانی عوام کو وضاحت دینے اور معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے حالات پر مبنی شواہد ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے۔صدر مملکت کا کہنا ہے کہ انہوں نے سائفرکی رپورٹ پڑھی جس میں ڈونلڈ لو کے بیانات شامل ہیں جن میں خاص طور پرعدم اعتماد کی تحریک کا ذکر کیا گیا۔سائفر میں ڈونلڈ لو کے ساتھ پاکستانی سفارت خانے میں ہونے والی ملاقات کی باضابطہ سمری موجود تھی،قومی سلامتی کمیٹی کے دو اجلاسوں میں توثیق کی گئی کہ ڈونلڈ لوکے بیانات پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول اور صریحا مداخلت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے بجا طور پر ڈی مارش جاری کیا،دھمکیاں خفیہ اورظاہراً دونوں ہو سکتی ہیں،ایک خودمختار،غیوراور آزاد قوم کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی،لمبے عرصے بعد خفیہ دستاویزات جاری کرنے تک ملکوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے دھمکی آمیز مراسلے کی تحقیقات کے معاملے پر صدر مملکت عارف علوی اور چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا تھا۔سابق وزیر اعظم عمران خان کے خط میں صدر سے ریاست کے سربراہ اور کمانڈران چیف افواجِ پاکستان فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ، خط میں پاکستان کی خود مختاری اور جمہوریت کو لاحق خطرے کی عوامی تحقیقات کی استدعا کی گئی۔اپنے خط میں عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ نے دیگر حکام کے ہمراہ ہمارے سفیر سے باضابطہ ملاقات کی اور اس ملاقات پر بھجوائی تمام تفصیلات خفیہ مراسلے کی شکل میں آپ کے پاس ہیں ، خفیہ مراسلے کی رپورٹ میں امریکی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ کی گفتگو واضح بیان کی گئی ہے۔
مراسلے میں دھمکی ملی،چیف جسٹس تحقیقات کے لیے کمیشن بنائیں:صدر مملکت



