اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وفاقی کابینہ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے چئیرمین واپڈا مزمل حسین کا استعفیٰ منظور کر لیا۔فواد اسد اللہ خان کو مستقل ڈی جی آئی بی تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی۔رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے عمر سرفراز چیمہ کے اقدامات پر بھی حیرانی کا اظہار کیا۔کابینہ نے کہا کہ صدر نے گورنر پنجاب کے معاملے پر آئین کا مذاق بنایا۔ارکان نے کہا ہے کہ ملک کو انتشار کی جانب دھکیلنے کیلئے آئینی عہدوں کا استعمال کیا گیا۔ وفاقی کابینہ صدر، گورنرپنجاب نے آئین، قانون، پارلیمان اور جمہوریت کی توہین کی۔وفاقی کابینہ نے رائے دی ہے کہ ملک سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔دوسری طرف صوبہ پنجاب کے آئینی بحران پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب کا دفتر آئینی طور پر خالی نہیں رہ سکتا ، اس لیے چوہدری پرویزالٰہی کی جانب سے چارج نہ لیے جانے پر پنجاب حکومت کی طرف سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ، اس حوالے سے سینیئر جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ تیمور تجمل کے دستخط سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عہدےسےہٹایا گیا ، اسپیکر پنجاب اسمبلی قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے ، گورنرپنجاب کو ہٹائےجانے کے بعد ان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ۔بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےگورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانےکی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی ، ایون صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت کا کہنا ہےکہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا، آئین کے آرٹیکل 101کی شق 3 کے مطابق گورنر ، صدرکی رضامندی تک اپنے عہدے پر رہےگا ، گورنر پر بدانتظامی کاکوئی الزام ہے نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی، گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، اس لیے انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا ، صدرکا فرض ہے کہ آئین کےآرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے ۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر رپورٹ ارسال کی تھی، گورنر پنجاب نے وزیراعلٰی پنجاب کے استعفے اور وفاداریوں کی تبدیلی پر رپورٹ ارسال کی تھی، مجھے یقین ہےکہ گورنرکو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ، اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں-
وفاقی کابینہ کا صدرِ مملکت عارف علوی کے کردار پر تشویش کا اظہار



