نئی دہلی(نیشنل ٹائمز): بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پُرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔ علاقہ مکینوں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے نے الزام عائد کیا کہ ہندو انتہا پسندوں نے نہ صرف املاک پر حملہ کیا بلکہ ایک مسجد کو بھی مسمار کرنے کی کوشش کی۔ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 افسر سمیت 7 اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 20 افراد کو حراست میں لے لیا۔دوسری جانب مقامی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اور انتہا پسند ہندوؤں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمانوں شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دباؤ میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے



