اسلام آباد (نیوز) ملکی سیاسی تاریخ میں بھونچال آگیا ہے،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے اپوزیشن لیڈ بن گئے، چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے نوٹیفکیشن جا ری کر دیا۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلئے مسلم لیگ (ن) کے اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے 21 سینیٹرز کے دستخط کے ساتھ درخواست جمع کرائی گئی جبکہ یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر 31 سینیٹرز کے دستخط تھے۔ یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں پیپلزپارٹی کے 21، اے این پی کے 2، جماعت اسلامی کے ایک، سابق فاٹا کے 2 اور دلاور گروپ کے 5 سینیٹرز نے ووٹ دیا ، ن لیگ کے 17، پختونخوا میپ کے 2 اور نیشنل پارٹی کے 2 سینیٹرز نے اعظم نذیر تارڑ کا ساتھ دیا،جے یو آئی (ف) کے 5 ارکان غیر جانبدار رہے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے درخواستوں پر ایک ایک سینیٹر سے انکے دستخط کی تصدیق کی جسکے بعد سینیٹ سیکرٹریٹ نے یوسف رضاگیلانی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ جے یو آئی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کےعمل میں حصہ نہیں لیا اور اسکے سینیٹر نے کسی کو بھی ووٹ نہیں دیے جسکی وجہ سے ن لیگ کے امیدوار کے پانچ ووٹ کم ہوئے۔ اس سے قبل یوسف رضا گیلانی نے 31 ارکان کی حمایت کے دستخط کے ساتھ درخواست جمع کرائی تھی۔ ذرائع کے مطابق فاٹا کے 2 آزاد ممبران سینیٹ سینیٹر ہدایت اللہ اور سینیٹر ہلال الرحمٰن نے یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں دستخط کیے تھے۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 21 ہے، جماعت اسلامی کا ایک ووٹ بھی یوسف رضا گیلانی کو ملا، اے این پی کے دو، سینیٹر دلاور گروپ کے 4 اور سابقہ فاٹا کے 2 آزاد اراکین نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کی اس طرح یوسف رضا گیلانی کو31 اپوزیشن اراکین کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 17 ہے۔پختو نخواہ میپ کے 2 اور نیشنل پارٹی کے 2 ارکان نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اعظم نذیر تارڈ کی حمایت کی،جے یوآئی (ف) کے 15 ارکان لا تعلق رہے اور کسی کی حما یت نہیں کی،ایوانِ بالا کے نئے اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اختلافات ابھر کے سامنے آئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ اپوزیشن لیڈر کیلئے اعظم تارڑ کو نامزد کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے نہ صرف اسے مسترد کردیا تھا بلکہ اس پر احتجاج بھی کیا تھا کیوں کہ وہ بینظیر بھٹو قتل کیس کے ملزمان پولیس افسران کے وکیل تھے۔
سینیٹ، گیلانی اپوزیشن لیڈر، سیاست میں بھونچال



