اسلام آباد(نیوز ڈیسک): وفاقی حکومت انسداد ریپ آرڈیننس پر عمل درآمد کے لیے 42 رکنی کمیٹی قائم کردی۔ حکومت کا جنسی زیادتی کے واقعات کےسدباب کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے انسداد ریپ آرڈیننس پر عمل درآمد کے لیے 42 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کردی۔وزارتِ قانون نے کمیٹی کی صدارت ملکیہ بخاری کے سپرد کی، جن کی سربراہی میں آج کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا اور آرڈیننس پر عمل درآمد پر مشاورت بھی ہوئی۔انسدادریپ آرڈیننس پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی کا آج پہلا اجلاس بھی ہوا، جس میں ملک بھر میں آرڈیننس پر عمل درآمد اور جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں حکومت نے انسداد ریپ آرڈیننس کے مسودے کو حتمی شکل دی تھی، جس میں زیادتی کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتوں کی تشکیل، مؤثر پراسیکیوشن شامل تھی۔وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق انسداد ریپ کےقانون کے مسودے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، اینٹی ریپ بل کا مقصد متاثرین کاتحفظ اور ملزمان کاریکارڈ رکھنا ہے ، خصوصی عدالتوں کی تشکیل سے تیز رفتار اور مؤثر پراسیکیوشن بل میں شامل ہیں۔
جنسی زیادتی کے واقعات کا سدباب، وفاقی حکومت کا اہم اقدام



