چکوال(نیشنل ٹائمز)محکمہ وائلڈ لائف چکوال کو سالٹ رینج کے دشمنوں کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل ہو گئی۔اڑیالوں کا قاتل ، جہلم کا رہائشی فضل حسین نامی شخص اپنے تین عدد مجرم ساتھیوں سمیت بالآخر چکوال سے پکڑا گیا ۔سالٹ رینج کی خوبصورتی اور بقاء کے ضامن اڑیالوں کی بے دردی سے گولی مار کر ذبح کی ہوئی جوڑی بھی برآمد کی گئی۔محکمہ وائلڈ لائف چکوال کی برق رفتار کاروائی کے نتیجے میںمجرمان ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش ہوگئے۔عدالت سے مجرموں کو سخت سزاسنائی گئی۔ مجرمان سے متعلقہ اسلحہ ضبط کر نے کا حکم دیا گیااوراسلحہ کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے ۔جبکہ ساٹھ ہزار روپے جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دس روز کی قید کا حکم سنایا گیا۔مزید ازاں کہ شکار شدہ اڑیال کو فوری طور پر نیلام کروا کر رقم سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی ہدایات دی گئیں۔

شدید بارش اور دشوارگزار ترین پہاڑی علاقہ ہونے کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف چکوال کی ٹیمیں تمام رات ریکی پر رہیں ۔جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اس جرائم پیشہ شکاری کا شکار کرنے کے لئے مختلف قسم کے جال پھیلائے گئے اور بالآخر اس کو انتہائی ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا گیا ۔مبینہ طور پر بتایا جا رہا ہے کہ یہ قدرت دشمن عناصر جن کا سرغنہ یہی افضل نامی شخص ہے ۔گزشتہ طویل عرصہ سے اڑیال کی دنیا میں صرف سالٹ رینج میں پائی جانے والی اس نایاب نسل کی بدترین تباہ کاری اور نسل کشی کی جا رہی تھی ۔ضلع جہلم میں سے گزرنے والی سالٹ رینج میں اڑیال کی نسل کا بدترین شکار کیا گیا ہے اور وہاں پر قدرت کے یہ شاہکار بمشکل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔جنگلی حیات کے یہ پیشہ ور قاتل گاڑی میں تھے اور چار لوگوں کی ٹیم تھی جن سے ایک نر اڑیال کا سر اور ایک مادہ شکار کی ہوئی برآمد کر لی گئی ۔ان مجرمانہ کردار عناصر کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کا پیشہ سالٹ رینج میں اڑیالوں کو مار کر انکا گوشت مہنگے ترین داموں فروخت کرنا ہے ۔جبکہ یہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب تک یہ لوگ لاتعداد اڑیالوں کا قتل عام کر چکے ہیں ۔اس ساری کارروائی میں جہاں محکمہ وائلڈ چکوال کی پوری ٹیم اور بالخصوص ان کے سربراہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عابد مرزا کی محنت قابل ستائش ہے وہیں پر ڈپٹی کمشنر چکوال کیپٹن ریٹائرڈ بلال کی سپورٹ اور قدرت کی ان نایاب خوبصورتیوں کو بچانے میں دلچسپی بھی انتہائی قابل تحسین ہے ۔فطرت شناس اہلیان چکوال نے وائلڈ لائف کی اس تاریخی کاروائی اور کامیابی پر بہت خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔اور اس عزم کو مزید دھرایا گیا ہے کہ اگر ایسے کوئی بھی غیر قانونی شکاری چکوال میں داخل ہوئے تو ان کا لوکل سطح پر بھی شدید ترین محاسبہ کیا جائے گا ۔چکوال کی سول سوسائٹی کی جانب سے وائڈلائف اسسٹنٹ ڈائریکٹر عابد مرزا کی یہاں پر تعنیاتی کو بھی یہاں کی قدرتی حیات کی بقا میں ایک سنگ میل کر قرار دیا گیا ہے ۔اور اس یقین کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ اگر محکمہ وائلڈ لائیف چکوال اور ڈپٹی کمشنر کی سطح سے چکوال کی اس ایک اہم ترین ضرورت یعنی یہاں کی جنگلی حیات کے تحفظ کا عزم یوں ہی قائم و دائم رہا تو انشاء اللہ تعالی بہت جلد چکوال میں ہر قسم کے غیر قانونی شکاریوں کا قلع قمع ہو جائے گا جنہوں نے اب تک یہاں کی ہر قسم کی جنگلی حیات کو خاتمے کے دہانے تک لا کھڑا کیا تھا ۔شکار چونکہ رفتہ رفتہ ایک ” اسٹیٹس سمبل ” کی شکل میں ابھرتا جا رہا ہے اس لئے دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے اس شوق میں داخل ہونے والے لوگوں کی اکثریت معاشرے کے طاقتور طبقات سے تعلق رکھتی ہے ، اس لیے اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کے وزیر اعلی اور وزرا سمیت اعلی ترین بیوروکریسی کی سطح سے بھی غیرقانونی شکار کی سرکوبی کی اہمیت کو سمجھ آجائے کیونکہ نظام قدرت کی اس مشین میں لگا ہوا ایک معمولی سے معمولی روزہ بھی درحقیقت اشرف المخلوقات انسان کی اپنی صحت مند بقاء کا ضامن ہے کیوں کہ
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قدرت کے کارخانے میں



