سلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم مارچ 2021ء) : سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے پیش کی تو وفاقی حکومت نے فوری طور پر الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت ایک حکومتی وفد کو الیکشن کمیشن بھیجا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزراء پر مشتمل حکومتی وفد الیکشن کمیشن پہنچا اور چیف الیکشن کمشنر اور ممبران سے ملاقات کرکے فیصلے پر قانونی نکات سے آگاہ کیا۔
حکومتی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ بابر اعوان، شہزاد اکبر، شفقت محمود، فیصل جاوید، وفاقی وزیر فواد چوہدری اور آئینی ماہرین وفد میں شامل تھے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو حمایت کا یقین دلایا اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں اعلٰی سطح اجلاس عدالتی رائے پر غور کر رہا ہے جس میں ووٹ کی شناخت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے شارٹ آرڈر پر الیکشن کمیشن میں مشاورت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا، شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، پاکستان کی تاریخ میں شفاف انتخابات کے حوالے سے یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے، 1500 لوگوں کے ووٹوں کی شناخت کی بات کی گئی۔
پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کا کہنا تھا کہ 3 سینیٹرز کو نوٹس ہوئے جو ووٹ کے بغیر ہی منتخب ہو کر آگے آگئے، سپریم کورٹ کے فیصلے کا تیسرا، پانچواں اور چھٹا پیرا اہم ہیں، الیکشن کمیشن کے پاس 5 اختیارات ہیں، شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، پاکستان کی تاریخ میں شفاف انتخابات کیلئے یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے، عمران خان کی حکومت وہ پہلی حکومت ہے جو شفاف انتخابات کیلئے سپریم کورٹ گئی۔



