کلین اینڈ گرین منصوبہ مافیا کی نظر ۔۔۔ مگر کیوں

تاثرات
مظہر طفیل
ملک میں وزیراعظم عمران خان حکومت کے جاری منصوبوں میں کلین اینڈ گرین کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا اسلام آباد میں اس منصوبہ کی افتتا حی تقریب کی رونماٸی میں خود وزیراعظم عمران خان اور ان کے ہمراہ وفاقی وزیر سرتاج گل سمیت اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی کمشنر اسلام آباد اور چٸیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی کو وزیراعظم نے خود جو احکامات دیٸے کہ اس منصوبے کو ہر حال میں کامیاب بنانا ہے ان احکامات کو سی ڈی اے کے چٸیرمین سمیت دیگر اعلی حکام نے انتہاٸی غیر سنجیدہ لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے ٹیکسوں سے شروع ہونے والا کلین اینڈ گرین منصوبہ اپنی موت آپ ہی مرگیا یہاں بات بیوروکریسی کی نااہلی کی کی جاٸے یا ان کی بدنیتی کی تو حالات و واقعات کے شواہد میں دونوں باتیں درست ثابت ہوتی دکھاٸی دے رہی ہیں کیونکہ اس منصوبہ کا باقاعدہ آغاز اسلام آباد کے نواحی علاقہ مل پور سے کیا گیا تھا جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری احکامات کے تحت قبضہ مافیا سے سرکار کی زمین واگزار کراٸی گی تھی وہیں پر قومی خزانہ سے بھاری رقم خرچ کرکے کلین اینڈ گرین منصوبے کا افتتاح وزیراعظم سے کروایا گیا اس کے بعد جو اس منصوبے کے ساتھ ہوا انتہاٸی مضحکہ غیز بات ہے کہ اسے تحریر کرتے ہوٸے بھی شرم آتی ہے جہاں ملک کے سب سے بڑے منصف سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے باقاعدہ قانونی سماعت کے بعد تمام سرکاری اداروں کو یہ ہدایات جاری کیں کہ قبضہ مافیا سے سرکاری زمینوں کو مکمل طورپر واگزار کرایا جاٸے مل پور اسلام آباد کے نواح میں واقع ایک ایسی آبادی ہے جس کےجغرافیہ سے ہر کوٸی واقف ہے وفاقی دارلحکومت کے بیچوں بیچ اگر وزاعظم کے افتتاحی منصوبے کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ ہوسکتا ہے تو اس سےآگے سوچنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے یہاں پر چیٸرمین سی ڈی اے اور کمشنر اسلام آباد عامر احمد کی کارکردگی کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے کس خوبصورتی کے ساتھ کلین اینڈ گرین منصوبے کو ناصرف اپنی نالاٸقی کی بھینٹ چڑھایا بلکہ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق جب ان سے اس بابت دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ کلین اینڈ گرین منصوبے کے تحت لگاٸے جانے والے پودے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب خراب ہوٸے ہیں اب ان کی جگہ نٸے پودے لگا کر ان کی مکمل طور پر دیکھ بھال کی جاٸے گی سول بیوروکریسی کی جانب سے اس طرح کا رویہ حقیقت میں یہ ان کی کاکردگی پر نہ صرف سوالیہ نشان ہے بلکہ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے افسران ملک وقوم اور جن اداروں کی ذمہ داری انہیں سونپی جاتی ہے اس سے کہاں تک مخلص ہیں بات یہیں پر نہیں رکتی جٹروأں شہر میں واقع راول ڈیم کے اردگرد سینکڑوں کنال سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا عرصہ سے براجمان ہے ان میں سے بعض قبضہ مافیا ہمیشہ حکمران جماعتوں میں شمولیت اختیار کرکے ان سرکاری زمینوں پر اپنے قبضے کو تاحال برقرار رکھے ہوٸے ہیں ان میں سے بعض تو ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن حتی کے جنرل مشرف کے دور اقتدار میں بھی ان کے نظریاتی حامی رہے ہیں اب یہی قبضہ مافیا تحریک انصاف کا ہراول دستہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ راول ڈیم کرگردونواح سے لے کر بنی گالہ تک یہ قبضہ مافیا انتہاٸی مضبوط ہوچکا ہے اس مافیاکے یہاں پر شادی ہال سے لے کر دیگر کٸی مختلف منصوبے جاری ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی ہیں مگر تحریک انصاف کے سیاسی ہراول دستہ ہونے کی بنا پر ان کےخلاف کسی طرح کی قانونی کارواٸی عمل میں نہیں لاٸی جاسکی بلکہ اس قبضہ مافیا نے راول ڈیم کا جو حشر کردیا ہے اگر اس کی آزادانہ تحقیقات ہوں تو اس میں سی ڈی اے سمیت دیگر سرکاری محکموں کیے سربراہان بھی ملوث پاٸے جاٸیں گے کیونکر سی ڈی اے کی اشیر باد کے بغیر وفاقی دارالحکومت میں سرکاری زمینوں پر اس طرح قبضہ کرنا ممکن نہیں یہی نہیں بلکہ اس مافیا نے سرکاری زمینوں کے ریکارڈ تک میں رساٸی حاصل کر لی ہوٸی ہے اسی طرح جڑواں شہر کا تاریخی راول ڈیم جو راول پنڈی کے شہریوں کے لیے پینے کے صاف پانی مہیا کرنے کا ایک اہم زریعہ تھا اسے اس مافیا کی جانب سے عرصہ دراز سے زہریلا کیا جارہا ہے کیونکہ راول ڈیم کے اردگرد اس قبضہ مافیا کی ناجاٸز تعمیرات کا تمام فضلہ بلاشریک غیرےراول ڈیم کی نظر ہورہا ہے اس بابت ماضی قریب میں ملک کی اعلی ترین عدلیہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعدد ججز حضرات سمیت چیف جسٹس صاحبان بھی نوٹس لے چکے ہیں ڈیم کے پانی کو آلودہ کرنے سے متعلق کیس ملک کی اعلی ترین عدلیہ میں زیرسماعت ہونے کے باوجود بھی یہ مافیا اسی طرح سرگرم عمل ہے پوری دنیا میں پینے والی پانی کو صاف رکھنے کے لیے اس طرح کے ڈیموں کو قدرتی طریقہ کار کے زریعے ہی کنڑول کیا جاتا ہے جس میں سب سے زیادہ موثر اور کامیاب طریقہ ان ڈیموں میں مچھلی کی پیداوار کرکے ڈیموں میں آنے والی غلاظت کو روکا جاتا ہے مچھلی چونکہ ایک قدرتی فلٹریشن کا کام کرتی ہے لہذا ماضی قریب میں راول ڈیم میں بھی مچھلی کی فارمنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا مگر صد افسوس کہ یہاں پر بھی یہی قبضہ مافیا سرگرم رہا اپنے اثرورسوخ کے زریعے سرکاری حکام کے ساتھ ساز باز کرکے اس مافیا نے نہ صرف مچھلی کا سرکاری ٹھیکہ کینسل کروایا جس سے محکمہ فشریز کو بھی ٹیھکہ کی مد میں ملنے والی بھاری رقم سے نہ صرف محروم ہونا پڑا بلکہ اب یہ مافیا اپنی مرضی سے ڈیم سے مچھلی چوری کرکے سرعام فروخت کرتا پھر رہا ہے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیرمین سی ڈی اے کو کیا اس کا علم نہیں کہ ڈیم سے مچھلی چوری ہورہی ہے جبکہ یہی مچھلٕی ڈیم کے پانی کو فلٹر کرنے کا ایک واحد زریعہ ہے راول پنڈی کے عام شہریوں سمیت کنٹونٹمنٹ میں بھی رہاٸش پزیر اب یہی گندہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں یہی وجہ ہےکہ ملک کے انتہاٸی اہم ترین شہر جو وفاقی دارالحکومت کا جڑواں شہر ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہو اسے اس پانی کی بدولت ہیپا ٹاٸٹس سمیت جگر اور گردوں کی بے شمار بیماریوں کا سامنا ہے مگر چونکہ مافیا طاقتور ہے اسی لیے وزیر اعظم اور عدلیہ سمیت دیگر اہم اداروں کو جھوٹ پر مبنی رپورٹ ارصال کردی جاتی ہے جس میں سب اچھا لکھا جاتا ہے میری ایک عام شہری اور صحافی ہونے کی حیثیت سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز چیف جسٹس سمیت کور کمانڈر راول پنڈی سے بھی ادنی سی درخواست ہے کہ وہ کم ازکم ایک ازاد تحقیقاتی کمیشن بناٸیں جو بنی گالہ اور راول ڈیم کے تمام علاقہ کی جیو فینسنگ کرکے سروے آف پاکستان کی خدمات حاصل کرٸے بلکہ اس تمام علاقہ کی سٹیلاٸیٹ امیجنگ بھی کی جاٸے جسے بعد ازاں سی ڈی اے کے ریکارڈ سے چیک کیا جاٸے تو سب کچھ سامنے آجاٸے گا اسی طرح راول ڈیم کے تمام معاملات کا کنٹرول بھی اسی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد نٸے سرے سے کیا جاٸے تاکہ نہ صرف راول ڈیم اپنی اصلی حالت میں برقراررہ سکے بلکہ جڑواں شہروں کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی ہمہ وقت مہیا ہوسکے اسی طرح محکمہ فشریزی کو بھی دوبارہ فعال کیا جاٸے تاکہ ڈیم کے پانی کو قدرتی طریقہ کار کے تحت صاف رکھنے کے لیے مچھلی کی پیدوار کو یقینی بنایا جاٸے ۔



  تازہ ترین   
مشرق وسطیٰ تنازع پر ثالثی کیلئے آج اسلام آباد میں بڑی بیٹھک ہوگی
ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیدی: اسحاق ڈار
30 واں روز: ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی، ایف 16 طیارہ گرانے کا دعویٰ
3500 اضافی امریکی میرین مشرق وسطیٰ پہنچ گئے: سینیٹ کام کی تصدیق
امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ تحریک کا آغاز، لاکھوں افراد سڑکوں پر
پاکستان سے تمام مسائل افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں: افغان وزیر خارجہ
ایران کے راستے برآمدات: بینک گارنٹی اور کریڈٹ لیٹر کی شرط عارضی معطل
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر