کوئٹہ (نیشنل ٹائمز)میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے انٹری ٹیسٹ کے حوالے سے احتجاج کرنے والے طلبہ کی گرفتاری اور اس سے قبل پولیس کی جانب سے ان پر مسلسل تشدد کے بعد پولیس و انتظامیہ کے ساتھ حکومت پر خاصی تنقید کی گئی تھی۔طلبہ کی گرفتاریوں، ان پر تشدد کے خلاف اور پی ایم سی کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں پر ملک کے مختلف مقامات پر طلبہ و طالبات نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا کیا ہے۔ملک میں طبی تعلیم سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جگہ موجودہ حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے ادارے پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کو ابتدا سے ہی تنقید کا سامنا ہے۔ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے داخلوں کے لیے ٹیسٹ کے حوالے سے طلبہ اور والدین کی جانب سے جہاں طریقہ کار پر اعتراض کیا جاتا رہا وہیں ادارے کی ساکھ اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے یہ اعتراض تواتر سے کیا جا رہا ہے کہ پی ایم سی میڈیکل اور پری میڈیکل تعلیم سے متعلق مسلسل بغیر تیاری اور وسائل کے ایسے تجربات کر رہا ہے جس سے یہ تعلیمی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔گزشتہ روز سینیٹ اجلاس کے دوران بھی پی ایم سی کا معاملہ اس وقت زیربحث آیا تھا جب سینیٹر مشتاق احمد خان نے کرپشن، بدانتظامی اور احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ فوری طور پر جامع پالیسی تشکیل دے کر مسئلہ حل کیا جائے۔
’طلبہ ہمارا مستقبل‘ کوئٹہ میں میڈیکل سٹوڈنٹس کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی گئی



