پاکستان میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن اور میڈیا کی دنیا بدلنے والا پراجیکٹ ڈی ٹی ایچ کا منصوبہ کرپشن کی نذرہوگیا

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان میں بھارتی ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے بولی جیتنے والی کمپنی نے جان بوجھ کر منصوبے کو ختم کیا ہے،پیمراکی خاموشی بھی بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کررہی ہےکامیاب بولی دہندہ شہزاد سکائی انٹرنیشنل کی طرف سے مبینہ کرپشن اور جعل سازی کے باعث منصوبہ تاحال شروع نہ ہوسکا ہے اور نہ ہی پیمرا کو واجب الادا فیس کی ادائیگی ہوسکی ہےشہزاد سکائی نے لاہور کی نجی سافٹ ویئر کمپنی کو پراجیکٹ فروخت کرنے کی کوشش کی مگر آڈٹ کرانے پر پتہ چلا کہ منصوبہ میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی اور جھوٹ کا سہارا لیا گیاحکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس پراجیکٹ کی چھان بین کرتے ہوئے اسے دوبارہ شروع کروائیں تاکہ بھارتی ایجنڈا ناکام ہو اور پاکستانیوں کو بھی ڈیجیٹل سروسز میسر آئیںاسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن اور میڈیا کی دنیا بدلنے والا پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹو ہوم(DTH)کا منصوبہ بھی کرپشن کی نذر ہوگیا ہے۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے ذمہ دار ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے زیرالتواءمنصوبہ ڈی ٹی ایچ جس کی باقاعدہ طور پر نیلام عام 3 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی اس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنیوالی نجی کمپنیوں نے بھرپور شرکت کی جس پر تین کمپنیوں نے کامیاب بولی دی جس پر حکومتی خزانے کو 14.5ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہونا تھا تاہم سکیورٹی کلیئرنس کی وجہ سے دو کمپنیوں کو لائسنس دینے سے حکومت پاکستان نے انکار کردیا اور ایک اسلام آباد کی نجی کمپنی شہزاد سکائی پرائیویٹ لمیٹیڈ کو گزشتہ سال ڈائریکٹ ٹو ہوم سروسز کا پاکستان میں لائسنس جاری کردیا گیا۔کمپنی کو 50فیصد نقد ادائیگی اور باقی رقم دس سال کی اقساط پر ادا کرنے کی بھی سہولت دے دی گئی جبکہ کمپنی نے 20 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرکے وہ رقم بھی ادا نہیں کی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹ ٹو ہوم منصوبے سے پاکستان میں چلنے والے بھارتی ڈی ٹی ایچ جو کہ 70 لاکھ سے زائد پاکستانی عوام استعمال کررہی ہے اور ہر ماہ پاکستان سے اربوں روپے ان بھارتی چینلز کو پاکستانی عوام بذریعہ آن لائن اور دیگر ذرائع سے ادا کررہے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ 16 سال سے ڈی ٹی ایچ کے منصوبہ کیلئے حکومت کی طرف سے ہوم ورک کیا جارہا تھا۔ بالآخر نجی کمپنی کو لائسنس دیا گیا تاہم شہزاد سکائی نامی کمپنی نے ایک سال گزر جانے کے باوجود اپنی سروسز شروع نہیں کی ہیں اور پیمرا کی طرف سے دئیے گئے لائسنس کی میعاد بھی 11فروری 2020ءکو ختم ہوگئی تھی تاہم پیمرا پاکستان کی طرف سے نجی کمپنی کو لائسنس کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمپنی کا تاحال سروس شروع کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔پیمرا پاکستان نے نجی کمپنی کی طرف سے DTH سروسز شروع نہ کرنے پر اور لائسنس کے قواعد نہ پورے کرنے پر اور کمپنی کی طرف سے ادا کی گئی تمام تر رقم حکومت پاکستان پیمرا سیکشن 35کے تحت رقم بھی ضبط نہ کی ہے۔پیمرا ذرائع نے بتایا کہ لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنی کو متعدد بار یاددہانی کے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں تاہم کمپنی کی طرف سے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب یا کارکردگی سامنے نہیں آئی ہے۔ پیمرا کے چیئرمین نے بتایا کہ اتھارٹی کے آئندہ کے بورڈ اجلاس میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا اورڈی ٹی ایچ انتہائی اہم منصوبہ ہے یہ پاکستان کے قومی مفاد کیلئے بہت ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنی کے ساتھ ہم مکمل رابطے میں ہیں اور ان کو بار بار یاد دہانی کے نوٹسز بھی دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ کمپنی موجودہ لائسنس میعاد کے اندر سروسز کو شروع نہیں کرسکی ہے ہ تین کمپنیوں میں سے ابھی صرف ایک کمپنی کو لائسنس جاری کیا گیا ہے اور اس کمپنی کو بھی لائسنس کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔اسی حوالے سے رابطہ کرنے پر شہزاد سکائی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور سربراہ شہباز ظہیر سے متعدد باران کے فون نمبر0321-5212122 بذریعہ فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بتایا کرونا کی وجہ سے ہماری کمپنی کو ایل سی اور دیگر چیزوں کیلئے مشکلات کا سامنا ہے ہم نے متعدد بار بذریعہ خط پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کو بھی آگاہ کردیا ہے اور پیمرا کے چیئرمین اور دیگر افسران ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ہم ان کے ساتھ پیش رفت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ کافی بڑا مالی پراجیکٹ ہے اس کے لئے ٹائم درکار ہے۔ترجمان پیمرا سے اس سے متعلق متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں مل رہا ہے۔پیمرا ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈی ٹی ایچ کا پراجیکٹ عملی طور پر ختم ہوچکا ہے اور قانونی طور پر بھی جو قانون طریقہ کار بتاتا ہے اس کے مطابق شہزاد سکائی انٹرنیشنل کے پیسے ضبط ہونے چاہئیں لیکن چیئرمین پیمرا ایسا کرنے سے قاصر ہیں اور قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ نیا پراجیکٹ پاکستان میں سیٹلائٹ اور میڈیا کی دنیا کو بدلنے والا پراجیکٹ کا جس پر افسوسناک سیاست کی گئی اور اس پراجیکٹ پر بھی کروڑوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو چاہیے کہ ذمہ داران کیخلاف اور قانون کی بات نہ ماننے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس پراجیکٹ کو بلا تاخیر فوری طور پر شروع کیا جائے۔ذرائع کے مطابق 2001ءمیں بھارت جوکہ پاکستان کا ہمسایہ اور اذلی دشمن ملک ہے اس نے 2001 کے بعد اپنی ڈی ٹی ایچ سروس شروع کرلی تھی اور اس سروس کے ذریعے میڈیا وار کا آغاز کیا جوکہ آج تک جاری ہے اور اپنے ہندوازم اور یہودی ایجنڈے کو فروغ دیا جارہا ہے پاکستان میں ابھی بھی لاکھوں غیر قانونی ڈی ٹی ایچ باکس کے ذریعے پاکستان کے ہر گھر میں انڈین چینلز چلائے جارہے ہیںاور 2ہزار روپے سے زائد ہر ڈی ٹی ایچ باکس رکھنے والا بذریعہ سنگاپور اور دیگر ممالک کے بھارت کو ہر ماہ اربوں روپے کی رقم ادا کی جارہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بدقسمتی سے جو کام 20سال پہلے ہونا چاہیے تھے کئی سال عدالتوں میں زیر التوا رہنے کے بعد 3اکتوبر2016 کو اسلام آباد میں اس کی بولی منعقد ہوئی لیکن پھر کرپشن اور اقربا پروری کے باعث یہ پراجیکٹ آج بھی نامکمل ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ لائسنس حاصل کرنیوالی کمپنی شہزاد سکائی انٹرنیشنل نے ضابطہ قانون اور دیگر شرائط کے تحت لائسنس کو شروع کرنا تھا لیکن ابھی تک عملی طور پر ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ہے اور اس بات کا فائدہ براہ راست چیئرمین پیمرا اتھارٹی سلیم بیگ کی ذات کو ہورہا ہے اور وہ اس پراجیکٹ پر سیاست کے ساتھ ساتھ دیگر فوائد بھی حاصل کررہے ہیں۔پیمرا ذرائع بتاتے ہیں کہ ڈی ٹی ایچ پراجیکٹ پر بہت ساری پریزنٹیشن حکومت پاکستان اور پیمرا اتھارٹی کو دی گئی ہے اس کے مطابق اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی سالمیت کو جس طرح نقصان بھارت میڈیا وار کے ذریعے پہنچا رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔پاکستان کے بڑے شہروں اور دور دراز علاقوں میں سرعام بھارتی ڈی ٹی ایچ فروخت ہوتے ہیں اور اس کے پیسے بھی بھارت میں جاتے ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ طویل سفر کے بعد ڈی ٹی ایچ پراجیکٹ جو شروع ہونا تھا وہ عملی طور پر بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس پراجیکٹ کو کھلی نیلامی میں حاصل کرنیوالی کمپنی شہزاد سکائی نے خفیہ طور پر یہ منصوبہ لاہور کی ایک نجی سافٹ ویئر کمپنی کو فروخت کرنے کی کوشش بھی کی تاہم لاہور کی نجی کمپنی کی طرف سے آڈٹ کروانے پر پتہ چلا کہ شہزاد سکائی انٹرنیشنل منصوبے میں کروڑوں روپے کی ہیرا پھیری کرچکا ہے اور جو اعداد و شمار فروخت کیلئے دے رہا ہے وہ حقائق پر مبنی نہ ہیں۔اس حوالے سے بھی شہزاد سکائی انٹرنیشنل کے عہدیداران نے جھوٹ بولا اور پراجیکٹ جوکہ پاکستان کا انتہائی حساس منصوبہ ہے خفیہ طور پر لاہور کی ایک کمپنی کو فروخت کرنے کی کوشش کی تاہم بتایا جارہا ہے کہ لاہور کی نجی سافٹ ویئر کمپنی کے عہدیداران نے کرپشن اور دیگر مسائل ہونے پر یہ منصوبہ خریدنے سے انکار کردیا ہے اور اس کے بعد گزشتہ ماہ جو بقیہ فیس شہزاد سکائی والوں نے پیمرا کو جمع کروانا تھی وہ بھی جمع نہ کروائی ہے جس کے بعد واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ نجی کمپنی حقائق کو بدل رہی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کررہی ہے اور حکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو فوری طور پر اس سارے معاملے پر چھان بین کرتے ہوئے انتہائی اہم اور حساس منصوبے کو فوری طور پر شروع کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی عوام کو بھی جدید اور ڈیجیٹل سروسز ایک باکس میں میسر آسکیں اور پاکستان میں بھارتی ایجنڈا اور میڈیاوار کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے۔گزشتہ ماہ فلیئر میگزین نے پاکستان کے میڈیا کی تاریخ بدلنے والے نئے ڈی ٹی ایچ پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی سٹوری شائع کی تھی اس حوالہ سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور اس قومی مفاد کے منصوبے کو کس نے کس طرح نقصان پہنچایا ہے اس حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع بتارہے ہیں کہ یہ منصوبہ2017تک مکمل ہونا چاہیے تھا تاہم سرکاری و نجی کمپنی کی ملی بھگت سے پاکستان کے قومی خزانے کو نہ صرف بلکہ قومی مفاد کو بھی شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے۔میڈیا وار کے اس جدید دور میں پاکستان کے بیانیہ اور پاکستان کے قومی مفاد کی جس طرح دھجیاں بکھیری گئی ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔جس کمپنی نے یہ منصوبہ حاصل کیا اس کمپنی کے عہدیداران کئی سال تک منصوبے کے آلات اور دیگر ساز و سامان خریدنے کیلئے اپنی فیملی کے ہمراہ غیر ملکی دورے کرتے رہے اور حکومت پاکستان ،پیمرا کو یہی بتاتے رہے کہ ہم منصوبے کیلئے سرمایہ کاری اور دیگر بندوبست کررہے ہیں جس کا بعد میں پتہ چلا تقریباً60کروڑ روپے سے زائد کا کمپنی کی انتظامیہ نے بیرون ملک سفر کیا ہے اور جو منصوبہ شروع کرنا تھا وہ عملی طور پر آج تک جہاں سے شروع ہوا تھا وہیں رکا ہے۔ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ شہزاد سکائی کمپنی کی انتظامیہ اس منصوبے کے حوالے سے مختلف غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں تھی اور ان سے اس کمپنی میں سرمایہ کاری کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اس بات کا تعین کرنا چاہیے کیا وہ پاکستان کے مفاد میں تھیں یا نہیں۔پیمرا ذرائع نے بتایا ہے کہ وسیع تر ملکی مفاد کے اس منصوبے کیلئے پاکستان کو تین طرح سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔1)جس کمپنی نے یہ منصوبہ حاصل کیا اس کے پاس مطلوبہ فنی اور مالی صلاحیت نہ تھی۔2)اس منصوبے کو دیگر دو کمپنیوں نے بھی بذریعہ بولی حاصل کیا تھا ان دونوں کمپنیوں کی سکیورٹی کلیئرنس اس کمپنی نے نہ ہونے دی تاکہ یہ منصوبہ صرف شہزاد سکائی ہی پاکستان میں شروع کرسکے اور مارکیٹ کے اکثریتی شیئر رکھنے والی کمپنی رہے جس کی وجہ سے دونوں دیگر نجی کمپنیوں کے کروڑوں روپے حکومت کے پاس دو سال سے زائد پھنسے رہے اور ان کی سکیورٹی بھی نہ کلیئر ہوسکی۔اس حوالے سے بھی پاکستان میں میڈیا میں سرمایہ کارنیوالی نجی وغیر ملکیوں کمپنیوں کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کے حوالے سے سرمایہ کاری انتہائی مشکل کام ہے۔دوسری طرف بھارت دہلی میں بیٹھ کر افغانستان کا ایک نام نہاد ڈی ٹی ایچ پہلے ہی چلارہا ہے اور وہ گزشتہ کئی سال سے افغان عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کو پاکستان کیخلاف منفی پراپیگنڈا کرتا رہا ہے لیکن اگر پاکستان کے پاس آج ڈی ٹی ایچ پراجیکٹ چل رہا ہوتا تو پاکستان اسلام آباد سے بیٹھ کر باقاعدہ ایک ڈی ٹی ایچ افغانی عوام کیلئے شروع کرچکا ہوتا اور بھارت کی جو ناکامی افغانستان سے ہوئی ہے وہ دنیا بھر میں اپنے ڈی ٹی ایچ کے ذریعے پوری دنیا کو بتاچکا ہوتا۔پیمرا ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس گروپ کو شروع نہ کرنے کا فائدہ صرف بھارت کو پہنچایا جارہا ہے کیونکہ بھارتی ڈی ٹی ایچ سیٹ ٹاپ باکس پاکستان میں آج بھی ہر روز لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں اور ہر خریدنے والا بھارت کو ماہانہ دو ہزار روپے سے زائد بذریعہ ہنڈی حوالہ یا دیگر ذرائع سے بھارتی کمپنیوںکو دیتا ہے۔یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ شہزاد سکائی نے کہیں نہ کہیں جان بوجھ کر منصوبے کو لیٹ کیا ہے اور پاکستان کے قومی مفاد کو جس طرح تہس نہس کیا ہے اسکی مثال بھی نہ ملتی ہے۔پیمرا ذرائع نے بتایا ہے کہ قانون اور پاکستانی مفاد کو تباہ و برباد کیا گیا ہے۔قانون کے مطابق کمپنی کا لائسنس کئی سال پہلے منسوخ کردینا چاہیے تھا اور اسکے بعد دیگر کمپنیوں کو کام کی اجازت دی جانی چاہیے تھی لیکن اس حوالے سے بھی پیمرا انتظامیہ یکسر ناکام ہوئی ہے ان کے حوالے سے بھی فوجداری مقدمات اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔پاکستان میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کے علم میں یہ بات لائی جارہی ہے کہ پاکستان کے قومی مفاد کے نام پر اربوں کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کا جو ریکارڈ بنایا جارہا ہے اس کو فوری طور پر کارروائی عمل میں لائی جائے اور ذمہ داران کیخلاف بلاتفریق مقدمات قائم کئے جائیں۔اس سٹوری کے حوالے سے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو قومی مفادات کی خاطر شائع نہیں کی جاسکتیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن لوگوں نے قومی مفاد کا حلف اٹھایا ہوتا ہے انہی لوگوں نے اس میں بہت گڑ بڑ کی ہے۔وسیع تر قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اعلیٰ سطح انکوائری کو فوری طور پر شروع کیا جائے اور پیمرا کو ہدایت کی جائے کہ اس منصوبے کو ازسرنو مکمل کیا جائے۔فلیئر میگزین میں ہم حقائق کے مطابق خبر شائع کررہے ہیں اور اپنی قومی ذمہ داری بھی اداکررہے ہیں اور اسے پورا کرتے ہوئے کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کے مفاد کو اولین ترجیح دی جائے ۔اللہ اور اسکے رسول کے احکامات پر عمل کیا جائے۔پیمرا پاکستان کی اتھارٹی کا 9اپریل2021 کو ایک اتھارٹی میٹنگ نمبر163منعقد ہوئی اس میں اتھارٹی منٹس جو ہمیں ملے ہیں اس کا جائزہ لیا جائے تو اس قومی مفاد کے منصوبے کو جس طرح تباہ و برباد پیمرا نے کیا ہے اس کی مثال نہ ملتی ہے۔اتھارٹی ممبران نے بھی اس منصوبے کو فوری طور پر شروع کرنے کی بات کی ہے اور اپنے قانونی حق کو استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے وہ بھی من و عن شائع کی جارہی ہے تاکہ پڑھنے والوں کو اندازہ ہوسکے کہ اس قومی مفاد کے منصوبے پر اتھارٹی کے اندر کیا چل رہا ہے۔



  تازہ ترین   
عباس عراقچی آج سے اسلام آباد، مسقط، ماسکو کا دورہ کرینگے: ایرانی میڈیا کی تصدیق
عالمی پیچیدہ سکیورٹی چینلجز کے باوجود پاکستان دنیاوی امن کیلئے کوشاں ہے: وزیراعظم
اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تمام ڈپازٹ بروقت واپس کر دیئے
خیبر: سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 22 خوارج جہنم واصل
اسرائیل لبنان جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، ایران سے دیرپا معاہدہ چاہتے ہیں: ٹرمپ
ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب
امریکی افواج کی بحرہند میں کارروائی، ایک اور بحری جہاز قبضے میں لے لیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر