اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے، اس وقت تمام افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے، موجودہ افغان حکومت عالمی برادری سے تعاون و مدد اور قبولیت کی خواہاں ہے، افغان عوام کی تاریخ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کٹھ پتلی حکومت کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان کو بیرونی قوتوں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این” کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے، ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چل پڑے، اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس اگر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مقصد کیلئے امریکہ افغانستان آیا تھا وہ عالمی دہشت گردوں کا خاتمہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان غیر مستحکم ہونے کی صورت میں امکان ہے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے لئے محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے، ہم یہ توقع اور دعا کرتے ہیں کہ 40 سال بعد یہاں امن قائم ہو۔ تاہم اس وقت افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی یہ تاریخ ہے کہ اسے کبھی باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی یہاں پر عوام کی مرضی کے خلاف کوئی کٹھ پتلی حکومت عوام قبول کرتے ہیں، اس لئے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے انہیں مدد کی پیشکش کرنی چاہئے۔خواتین کے حقوق سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا غلطی ہے کہ باہر سے بیٹھ کر کوئی افغان خواتین کو حقوق دے سکتا ہے، افغان خواتین طاقتور ہیں اور انہیں وقت دیا جائے، افغان خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شروع میں پاکستان نے 50 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان میں حقانی قبیلے کے لوگ بھی تھے، اس قبیلے کے کئی لوگ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں پیدا ہوئے، امریکیوں کو حقانی نیٹ ورک کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا ہے، حقانی افغانستان کا پشتون قبیلہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے ایک بار پھر افغان حکومت کو قبول کرنے کا مطالبہ کر دیا،”سی این این” کوخصوصی انٹرویو



