ٹرمپ کی ہار ۔۔۔پاکستانی حکمرانوں کے لیے نوشتۂ دیوار

اگر جان کی امان پاوں تو جناب والا سرزمین امریکہ کی سیاسی بساط پر حالیہ مڈٹرم انتخابات میں جو بازی الٹی ہے وہ محض ایک جماعت کی ہار نہیں بلکہ ایک پورے طرز فکر کے منہ پر پڑنے والا وہ طمانچہ ہے جس کی گونج واشنگٹن سے اٹھ کر اسلام آباد اور لاہور کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے اپنی ہی جماعت کو ایسی عبرت ناک شکست سے دوچار کیا کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ گئے مگر صد افسوس کہ ہمارے حکمران طبقے کو یہ نوشتۂ دیوار پڑھنے کی توفیق نصیب نہیں ہو رہی وہ کبوتر کی مانند آنکھیں موند کر یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ بلی ٹل گئی ہے حالانکہ بلی عین دہلیز پر کھڑی ہے
ہمارے مہربان وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے ایک بار نہیں کئی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد فرمایا بین الاقوامی فورموں پر ان کی خارجہ پالیسی کے قصیدے پڑھے اور دنیا کو یقین دلانے کی سعی کی کہ اس رہتی دنیا میں ٹرمپ سے بڑھ کر امن کا پجاری کوئی پیدا ہی نہیں ہوا مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑا فرق شرح خواندگی کا ہے وہاں کا عوام باشعور ہے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اپنے دماغ سے سوچتا ہے اور کسی کے زیر اثر نہیں چلتا وہ قصیدہ خوانی کے فریب میں نہیں آتا بلکہ اپنی جیب اپنے چولہے اور اپنے بچوں کے مستقبل کا حساب مانگتا ہے۔
امریکی عوام نے اپنے صدر کی خارجہ پالیسیوں اور بالخصوص ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ان کے کردار کا حساب ووٹ کی پرچی سے چکا دیا اس جنگ کا خمیازہ امریکی عوام ہی نے نہیں پوری دنیا نے بھگتا مہنگائی نے کمر توڑ ڈالی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا بے گناہ اور معصوم انسانوں کی جانیں بڑے پیمانے پر ضائع ہوئیں اور غزہ و فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا تو ٹرمپ ان پر آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے امریکی عوام یہ سب دیکھ کر چپ نہ رہے وہ بارہا سڑکوں پر نکلے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف اپنے غم و غصے کا بھرپور اظہار کیا یہ مناظر ہم تمام مسلم ممالک کے لیے باعث شرم تھے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے حکمرانوں کے لیے کہ یہاں فلسطین اور غزہ کے بے بس لاچار اور مظلوم عوام کے حق میں کسی نے بھی چاہے وہ کوئی غیر سرکاری تنظیم ہو یا عام شہری احتجاج کی ہمت کی صدائے حق بلند کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف ان کے خیمے اکھاڑ پھینکے گئے بلکہ انہیں حراست میں لیا گیا اور ان پر بے جا مقدمات کے پرچے کاٹ دیے گئے یہ ہماری سیاسی اشرافیہ کا وہ بھیانک چہرہ تھا جو آئینے میں دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا۔
اس اشرافیہ کا حال بھی عجب ہے جب اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو اسے بس اللہ ہی اللہ یاد آتا ہے مکہ اور مدینہ میں بیٹھ کر ایسی بلند بانگ باتیں اور ایسے دعوے کرتی ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے مگر جونہی کرسی اقتدار پر براجمان ہوتی ہے خصوصاً آل شریف یعنی میاں شریف خاندان تو طور طریقے یکسر بدل جاتے ہیں تکبر غرور رعونت اور دوسروں کو کچھ نہ سمجھنے کا مزاج غالب آ جاتا ہے پھر فکر ہوتی ہے تو بس اپنے مالی مفادات کی اپنے کاروبار کی اپنے اہل خانہ کی اور اپنے اردگرد ان سرمایہ کاروں کی جو انتخابات میں ان کے مالی سرپرست رہے یہی ان کا وتیرہ ہے
آج پاکستان میں بدترین حکمرانی کا ریکارڈ میاں شہباز شریف کی حکومت نے قائم کر دیا ہے مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور کسی شے پر ان کا قابو نہیں گیس سلنڈر کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں کئی مہینے بیت چکے ہیں قیمتیں بے لگام ہیں اور حکومت ابھی تک پالیسیوں ہی کے دعوے کیے جا رہی ہے پٹرولیم کی قیمتوں میں جو دو نمبری کی گئی اس نے لوگوں کا جینا اجیرن کر دیا بجلی کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ روز کا معمول ہے اور اضافی بلنگ کا معاملہ تو اب ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے سرکاری اداروں کی رپورٹیں واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ لیسکو اور آئیسکو سمیت بجلی کی تمام کمپنیاں بلنگ میں زیادتی کی مرتکب ہوتی ہیں عوام سے اربوں روپے ماہانہ زبردستی وصول کیے جاتے ہیں اس بجلی کے جو انہوں نے استعمال ہی نہیں کی۔
یہ ایسی پالیسی ہے جو میاں خاندان اپنے حواریوں اپنے چاہنے والوں اور اپنے مالی سرپرستوں کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے لایا ہے کہ عوام کے جسموں اور ہڈیوں سے خون تک نچوڑا جا رہا ہے اس کے باوجود ہماری سیاسی اشرافیہ کی ہوس ہے کہ پوری ہونے کا نام نہیں لیتی میاں شہباز کئی بار اعلان کر چکے کہ میں اپنے سینے پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کرتا ہوں تو جناب والا یہ پتھر اپنے سینے پر نہ رکھیے عوام کے سروں پر دے ماریے انہیں کچل دیجیے اور ایک ہی بار موت کے کنویں میں دھکیل دیجیے آپ عوام کی ہڈیاں نوچ کر اور ان کا گوشت بوٹی بوٹی کر کے جس طرح اپنے کاروباری دوستوں کے مفادات پورے کر رہے ہیں اور جس انداز سے ریاست کا نظام چلا رہے ہیں اس سے تو بہتر ہے کہ ایک ہی دفعہ اس قوم کو تباہ و برباد کر کے مار ڈالیں۔آپ فرماتے ہیں کہ آئی ایم ایف نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں مگر جب آپ ارکان پارلیمان کی تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ کرتے ہیں تو اس وقت آئی ایم ایف آپ کو نہیں روکتا جب ارکان پارلیمان کی مراعات اور دیگر سرکاری عیاشیوں پر بے حساب اخراجات ہوتے ہیں تب بھی آپ کو کوئی نہیں روکتا آپ کے شاہانہ پروٹوکول کا جواب کون دے گا آپ نے آج تک اتنے دورے کیے ذرا بتائیے تو سہی کہ ان سے کتنے مالیت کی بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی جب کوئی آپ سے سوال پوچھ بیٹھے تو اسے غدار وطن قرار دے دیا جاتا ہے گویا آپ نے غداری کا کارخانہ کھول رکھا ہے۔
آپ کی بھتیجی پنجاب میں جس بدنظمی اور سخت گیری سے حکومت چلا رہی ہیں اس کی مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک نہیں ملتی ٹریفک چالانوں کے بل بوتے پر جس طرح لوٹ مار مچی ہے عوام سے ان کی زندگی کی سانسیں تک چھینی جا رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز خاتون ہونے کے ناطے بے حد قابل احترام ہیں مگر ان کا طرز حکمرانی انتہائی ظالمانہ ہے انہیں شاید معلوم نہیں کہ ایک عدالت یہاں ان کی اپنی ہے اور ایک عدالت اگلے جہان میں اللہ کی ہے
اور اس عدالت میں میاں شہباز شریف کو بھی جانا ہے مریم نواز کو بھی جانا ہے اور میاں نواز شریف کو بھی جانا ہے مگر وہاں نہ ان کے پروٹوکول ہوں گے نہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہوں گے اور نہ وہ طبلہ نواز موجود ہوں گے جو یہاں ان کی ہر ظالمانہ پالیسی پر واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہیں جس طرح یہ عوام کا خون پسینہ نچوڑ رہے ہیں اور ان پر ظلم ڈھا رہے ہیں وہاں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہو گی پھر پاکستانی عوام کے ہاتھ ہوں گے اور ان کے گریبان ہوں گے اور اللہ کا نظام ہو گا۔



  تازہ ترین   
فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا
وزیراعظم کی فیول سبسڈی نہ دینے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت
آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو 3 ایم پی او کے مقدمات سننے سے روک دیا
الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلے وار کرانے کا فیصلہ
سعودیہ کے بعد چین اور کویت کی 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی
ایران جنگ ہی ہماری انتخابی شکست کی وجہ بنی: جے ڈی وینس کا اعتراف
عوام مجھ سے تنگ ہوئے تو اسرائیل جا کر وزیراعظم بن جاؤں گا، ٹرمپ کا دلچسپ بیان
شامی صدر کی ریاض آمد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر