امریکی امداد کے بغیر10ارب ڈالر بیرونی ادائیگیوں کے انتظامات مکمل کرلیے:وزیر خزانہ

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست تاحال منظور نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے بیرونی ادائیگیوں کے لیے انتظامات کر لیے ۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے یورو بانڈز فروخت کرکے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے مختصر مدت کے لیے 3 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کر دیا ہے ۔ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد دسمبر میں 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے ۔ چین، سعودی عرب اور کویت سے مجموعی طور پر 7.3 ارب ڈالر کے قرضوں کا رول اوور بھی یقینی بنایا جا چکا ہے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے قرضے کا رول اوور ہو چکا ہے اور اس کی واپسی مناسب مدت کے لیے موخر کر دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے سعودی وزیر خزانہ کے ساتھ ان کی اچھی ملاقات ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں، اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ فی الحال سعودی عرب سے مزید مالی معاونت درکار نہیں کیونکہ پاکستان کے پاس تین ماہ کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی سہولت ملے یا نہ ملے ، بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن اب بہتر ہے ۔ پاکستان کو ہر سال تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے یورو بانڈز کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے ۔

حکومت کی کوشش ہے کہ یورو بانڈز کی ادائیگی کے لیے کسی بھی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس دسمبر میں متوقع ہے تاہم ابھی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ 5 سے 10 سال کی مدت کے طویل مدتی قرضے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ قلیل مدتی مہنگے قرضوں کی ادائیگی کرکے قرضوں کی مدت بڑھائی جا رہی ہے ۔ پاکستان کا بڑا مسئلہ قرضوں کی واپسی اور ان کے رول اوور کا خطرہ رہا ہے ، کیونکہ ہر تین ماہ بعد بینکوں سے قرضوں کی ری فنانسنگ کرنا پڑتی تھی۔وزیر خزانہ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط کے باعث پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ مالیاتی خسارہ ساڑھے بارہ فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد پر آگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا صرف 0.1 فیصد رہا۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے ساتھ درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ متاثر ہوتا ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی بل پر دباؤ آیا ہے ۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ معاشی استحکام برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے ، کیونکہ اسے کھونا آسان جبکہ دوبارہ حاصل کرنے میں چار سے پانچ سال لگ جاتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی گنجائش موجود ہو تو امداد اور بحالی کے لیے اپنے وسائل استعمال کرنے چاہئیں۔ ملک میں نقدی کی قلت یا امن و امان کی کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بہتر ہو کر بی ہوگئی ہے ۔ رواں مالی سال کے اختتام یا آئندہ مالی سال کے آغاز تک اسے بی پلس تک لے جانے کی توقع ہے ۔

پاکستان کا ہدف بی پلس سے آگے بڑھ کر ڈبل بی کریڈٹ ریٹنگ کیٹیگری میں داخل ہونا ہے جبکہ ماضی میں ملک کی بہترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی پلس رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر ساڑھے چار ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ رواں مالی سال یہ ادائیگیاں تقریباً چار ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے ۔ آئندہ مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کم ہو کر ساڑھے تین ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے ۔ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔ درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ آسکتا ہے ، اس لیے پاکستان دوبارہ عالمی قرض دہندگان سے رجوع کرنے سے بچنے کے لیے محتاط پالیسی اپنا رہا ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت میں استحکام کے باوجود بڑی معیشتوں کا مستقبل تشویشناک دکھائی دے رہا ہے اور یورپی ممالک بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور تعاون اہمیت کے حامل ہیں۔ سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے خزانہ کمیٹی کو بتایا کہ اگست 2026ء تک ملکی قرضہ کم ہو کر 58.8 ٹریلین روپے رہ گیا جو جون 2026ء کے مقابلے میں 684 ارب روپے کم ہے ۔ اس عرصے میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 98.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مالی ضروریات قابل انتظام ہیں اور قرضوں کی میعاد میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔سیکرٹری خزانہ کے مطابق پاکستان کی مجموعی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے تقریباً 20 فیصد کے برابر ہیں۔ مالیاتی نظم و ضبط کے باعث بھاری قرضوں کے باوجود مالی ضروریات مستحکم ہیں۔ وفاقی مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے 6.86 ٹریلین روپے اضافی قرض لیا گیا جس کی 86 فیصد فنانسنگ ملکی قرضوں کے ذریعے کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ملکی قرضوں کی اصل زر کی ادائیگی 17 ٹریلین روپے ہے جبکہ بیرونی قرضوں کی اصل زر کی ادائیگی 17.5 ارب ڈالر اور سود تقریباً 4 ارب ڈالر ہے ۔ ملکی قرضوں کی اوسط میعاد جون 2024ء کے 2.7 سال سے بڑھ کر جون 2026ء میں 3.8 سال ہوگئی ہے ۔ مالی سال 2028ء تک اسے 4.2 سال تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2027ء کے لیے مجموعی بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں 21.5 ارب ڈالر ہیں جن میں 17.5 ارب ڈالر اصل زر اور 4 ارب ڈالر سود کی ادائیگی شامل ہے ۔ان کے مطابق دوطرفہ قرضوں کے رول اوور سے 7.3 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کا بوجھ کم کیا گیا ہے ۔

اگر یہ رول اوور نہ ہوتا تو بیرونی ادائیگیاں تقریباً 14 ارب ڈالر بنتیں۔ اسی طرح کمرشل قرضوں کی ری فنانسنگ کے تحت 3.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کم کی گئیں جس کے بعد رول اوور اور ری فنانسنگ کی بدولت خالص بیرونی ادائیگیاں تقریباً 11 ارب ڈالر رہ گئیں۔سیکرٹری خزانہ کے مطابق مالی سال 2027ء کے پہلے چار ماہ میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جبکہ باقی عرصے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ قرضوں کی دانشمندانہ ری فنانسنگ کے ذریعے کم لاگت پر مالی ضروریات پوری کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ سیکرٹری خزانہ نے مزید بتایا کہ قرضوں کے حصول میں شریعت کے مطابق مالیاتی ذرائع کا حصہ بڑھانے اور سرمایہ کاروں کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مجموعی سرکاری قرضوں میں بیرونی قرضوں کا تناسب 40 فیصد کی حد سے کم رکھنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں پاکستان ساورن ویلتھ فنڈ ترمیمی بل 2026ء پر غور کیا گیا۔وزارت خزانہ کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان ساورن ویلتھ فنڈ کا قانون 2023ء میں منظور کیا گیا تھا تاہم حکومت اب اس میں ترامیم کر رہی ہے ۔ مجوزہ ترامیم کے تحت فنڈ صرف مقامی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور غیر ملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔حکام کے مطابق فنڈ کے پاس غیر ملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود نہیں ۔ مجوزہ ترامیم کے تحت کمپنیوں سے حاصل ہونے والے ڈیویڈنڈ حکومت کو منتقل ہوں گے جبکہ فنڈ میں پیشہ ور ماہرین کے اختیارات بڑھانے اور بیوروکریسی کے اختیارات کم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے ۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ آیا یہ ترامیم آئی ایم ایف کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں؟ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ موجودہ قانون کے تحت فنڈ کا دائرہ کار بہت وسیع تھا، جسے اب محدود کیا جا رہا ہے ۔حکام کے مطابق ساورن ویلتھ فنڈ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے اور اس کا بورڈ مختلف کمپنیوں اور اداروں کو کنٹرول کرے گا۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت تین سال قبل منظور کیے گئے قانون کے بالکل برعکس ترامیم کر رہی ہے ۔



  تازہ ترین   
فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا
وزیراعظم کی فیول سبسڈی نہ دینے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت
آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو 3 ایم پی او کے مقدمات سننے سے روک دیا
الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلے وار کرانے کا فیصلہ
سعودیہ کے بعد چین اور کویت کی 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی
ایران جنگ ہی ہماری انتخابی شکست کی وجہ بنی: جے ڈی وینس کا اعتراف
عوام مجھ سے تنگ ہوئے تو اسرائیل جا کر وزیراعظم بن جاؤں گا، ٹرمپ کا دلچسپ بیان
شامی صدر کی ریاض آمد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر