واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)انتخابات سے قبل قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ووٹنگ کے بعد ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھا سکتے ہیں تاہم مبصرین کے نزدیک ٹرمپ ایسی راہ تلاش کر سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنا سیاسی وقار برقرار رکھتے ہوئے اس جنگ سے نکل سکیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کا اشارہ دیا تھا، امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ٹرمپ اپنے مشیروں سے یہ مشورہ کرتے رہے ہیں کہ آیا وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے پر برقرار رکھا جائے یا نہیں۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ مدت صدارت کے آخری دو برسوں میں ڈیموکریٹس کی ہر قانون سازی کی کوشش کو ویٹو کریں گے یا دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کی کوئی راہ نکلے گی۔
اگرچہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن دوسری جانب انہوں نے سوشل میڈیا پر سرخ رنگ کی ویٹو ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس سے ان کے آئندہ سیاسی مؤقف کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود بڑے دھڑے کے مستقبل پر بھی بحث جاری ہے، بعض دائیں بازو کے مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی شکست کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ اپنی ہی تحریک کے بنیادی مؤقف سے ہٹ گئے تھے، تاہم یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا 80 سالہ ٹرمپ کے بغیر یہ تحریک اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہ سکے گی۔



