اسلام آباد (شِنہوا) اسلام آباد میں حال ہی میں چین-جنوبی ایشیا فورم برائے انسداد غربت اور ترقیاتی تعاون 2026 منعقد ہوا، جس میں چین، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے 100 سے زائد سرکاری حکام، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، میڈیا نمائندوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وزیر مملکت چوہدری ارمغان سبحانی نے کہا کہ چین نے منظم منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کے ذریعے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا ہے جس کا تجربہ پاکستان کے لئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پہلے مرحلے اور اس کے تحت سماجی و اقتصادی تعاون کے منصوبوں سے مقامی آبادیوں کو بنیادی شہری سہولتوں، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے سی پیک 2.0 اور گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) پر عملدرآمد سے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور چین ظفر الدین محمود نے کہا کہ غربت میں کمی کے حوالے سے چین کی کامیابیاں ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک مفید مثال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو اپنی آبادی اور معاشی صلاحیت سے بہتر فائدہ اٹھانے، چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے، روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ غربت کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
چائنہ انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ (سی آئی سی جی) کے ایک نمائندے نے کہا کہ چین اور جنوبی ایشیائی ممالک خطے کے حالات کے مطابق غربت میں کمی اور ترقی کے طریقے تلاش کرنے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
نمائندے نے جنوبی ایشیائی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے ملکی حالات کے مطابق ترقیاتی منصوبے شروع کریں، باہمی تبادلوں اور تعاون کے پلیٹ فارمز اور طریقہ کار کو مضبوط بنائیں اور غربت میں کمی اور ترقی کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی راہیں تلاش کریں۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ چین نے 2021 میں گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) پیش کیا تھا جس کے تحت تعاون کے آٹھ اہم شعبوں میں غربت کے خاتمے کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان عملی تعاون مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ چین پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ نظم ونسق کے اپنے تجربات کے تبادلے کے لئے تیار ہے۔
فورم کے مختلف موضوعاتی اجلاسوں میں چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ماہرین اور دانشوروں نے غربت میں کمی کے عملی اقدامات، سب کی شمولیت پر مبنی ترقی، ترقی کے نئے ذرائع اور علاقائی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس فورم کا اہتمام چائنہ انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ اور پاکستان میں چینی سفارت خانے کی نگرانی میں کیا گیا جبکہ سی آئی سی جی سنٹر فار یورپ اینڈ ایشیا (چائنہ پکچوریل پبلیکیشنز) اور پاکستان کے انڈراسٹینڈنگ چائنہ فورم نے مشترکہ طورپر انعقاد کیا۔
پاکستان میں غربت کے خاتمے اور ترقیاتی تعاون سے متعلق چین- جنوبی ایشیا فورم کا انعقاد



