طاقت کا بدلتا عالمی توازن اور پاکستان کا کردار

ایران امریکہ اسراٸیل جاری جنگی کشیدگی کے باعث پاکستان کی سفارت کاری دفاعی صلاحیت اور علاقائی اہمیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں جبکہ اس وقت جنوبی ایشیا میں خطے کی روزبروز تبدیل ہوتی صورتحال کے پیش نظر ایران، امریکا، اسرائیل، ترکیہ اور سعودی عرب کی کشیدگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے موجودہ عالمی ثالثی کے کردار کو انتہاٸی اہمیت حاصل ہوچکی ہے چونکہ دنیا اس وقت ایک ایسے خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی خلیجی ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات نے بین الاقوامی سیاست کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے ایسے میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان قائم ہونے والا مکہ دفاعی اتحاد محض تین ممالک کا دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اجتماعی سلامتی اور جنگ کے خطرات کو روکنے کی ایک اہم پیشرفت بن کر سامنے آیا ہے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کا حالیہ بیان اس اتحاد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا واضح اشارہ ہے انہوں نے بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مکہ دفاعی اتحاد کے خلاف چلائی جانے والی مہم کو نئی دہلی کے خدشات کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا اسٹریٹجک تعاون بھارت کو بے چین کر رہا ہے ان کے مطابق تنقید اور غلط معلومات کے ذریعے اس اتحاد کی اہمیت ختم نہیں کی جا سکتی درحقیقت یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں نئے دفاعی اور سفارتی تعلقات عالمی طاقتوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں بھارت اگر خطے میں اپنی برتری کے تصور کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے بدلتے ہوئے علاقائی حقائق کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔
ادھر مکہ دفاعی اتحاد کے قیام نے پاکستان کو ایک نئی سفارتی اور دفاعی ذمہ داری سے بھی روشناس کرایا ہے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اگست 2026 میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کی سلامتی خودمختاری اور علاقائی استحکام کا تحفظ ہے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے اس اتحاد کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور جنگ کے امکانات کی روک تھام ہونا چاہیے۔ یہی فرق ایک ذمہ دار دفاعی اتحاد اور جارحانہ عسکری صف بندی کے درمیان بنیادی اہمیت رکھتا ہے ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی دھمکیوں کے بعد ایران کی طرف سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی یا دہشت گرد حملے کیے تو ایرانی مسلح افواج اور قوم جواب دینے کے وقت اور طریقہ کار کا خود تعین کریں گے دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ایرانی مذاکرات کاروں کی دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقاتیں اور سفارتی رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کے خدشات کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کا فقدان کسی بھی پیشرفت میں بڑی رکاوٹ ہے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا یہ بیان بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایران اپنے جوہری ہتھیاروں سے متعلق دیرینہ پالیسی پر نظرثانی کے امکان پر غور کر سکتا ہے اگرچہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے اگر مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے سعودی عرب کی فضائی حدود میں دشمن ڈرون کی تباہی اور خلیجی تنصیبات کو لاحق خطرات بھی واضح کرتے ہیں کہ کشیدگی اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہی اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے 26 اکتوبر کو تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان محض حالات کا تماشائی نہیں بلکہ علاقائی کشیدگی کم کرنے کے سفارتی عمل میں براہ راست شریک ہے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن کی موجودگی میں ہونے والی اس ملاقات میں چاروں ممالک نے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا پاکستان کی جانب سے مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے اور مفاہمت کی کوششیں اسے ایک اہم سفارتی کردار فراہم کر رہی ہیں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری سفارت کاری بھی اس وقت عالمی توجہ کا مرکز ہے ان کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کے عسکری ادارے علاقائی سلامتی کے معاملات میں براہ راست سفارتی رابطوں کا حصہ ہیں جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی طاقت کے توازن اور بیرونی قوتوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کے ساتھ سفارتی حکمت عملی کو بھی مضبوط رکھے خطے میں کسی بھی ملک کو یکطرفہ بالادستی قائم کرنے کی کوشش کے بجائے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرنا ہوگا پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہی ہوگی کہ وہ تصادم کو روکنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار مؤثر بنائے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی کوششیں کرتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل کو نظرانداز کر سکتا ہے؟ اس کا جواب ہرگز نہیں پاکستان کو اس وقت معاشی بحران قرضوں کے بوجھ مہنگائی بے روزگاری توانائی کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ تجارتی راستوں کی بندش اور جنگی حالات پاکستان جیسی معیشت کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں اس لیے علاقائی امن پاکستان کی محض سفارتی ضرورت نہیں بلکہ اس کی معاشی بقا اور عوامی ریلیف سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، جمہوری قوتیں مذہبی قیادت اور ریاستی ادارے اپنے اختلافات کو قومی مفاد کے تابع رکھیں حکومت اور فوج کے درمیان قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مؤثر ہم آہنگی ضروری ہے مگر اس کے ساتھ سیاسی مکالمہ جمہوری اداروں کی مضبوطی آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے اختلاف رائے کو دشمنی اور سیاسی مخالفت کو قومی کمزوری میں تبدیل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے قومیں اندرونی انتشار کے ساتھ بیرونی چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتیں پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عالمی سطح پر ملنے والی اہمیت اسی وقت دیرپا کامیابی میں تبدیل ہو سکتی ہے جب اس کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں سفارتی کامیابی کا پیمانہ صرف عالمی اجلاسوں میں شرکت یا دفاعی معاہدوں پر دستخط نہیں بلکہ ملک میں امن معاشی استحکام سرمایہ کاری روزگار اور عوامی خوشحالی بھی ہے مکہ دفاعی اتحاد کو جنگ کے بجائے امن دفاع کے بجائے جارحیت کی روک تھام اور طاقت کے بجائے ذمہ دارانہ سفارت کاری کی علامت بنانا ہوگا۔
آج پاکستان کے سامنے ایک تاریخی موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی دنیا کو جنگ سے بچانے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی گنجائش پیدا کرنے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعاون بڑھانے اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا متوازن ماحول قائم رکھنے میں پاکستان اپنا کردار ادا کر سکتا ہے مگر اس کے لیے قومی یکجہتی سیاسی بلوغت اور مستقل مزاج سفارت کاری ضروری ہے اگر ہم نے اپنے اندرونی اختلافات کم کرکے قومی مفاد کو ترجیح دی تو پاکستان کی عالمی اہمیت محض وقتی سفارتی پیشرفت نہیں رہے گی بلکہ ایک مستحکم خودمختار اور باوقار مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہےجو ہماری أٸندہ أنے والی نسلوں کے لیے موجودہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کا احسان عظیم ہوگا۔



  تازہ ترین   
ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ امریکا جلد معاملہ نمٹا دے گا: ٹرمپ
افغانستان سے بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، طالبان پوسٹیں چھوڑ کر فرار
افغان طالبان نے دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی: ترجمان پاک فوج
کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے وزیر تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
امریکی صدر اور نیتن یاہو کا رابطہ، ایران کیخلاف جنگ، فوجی کارروائیوں پر گفتگو
خطے کے ممالک ایران کیخلاف جنگ کی حمایت نہ کریں، ماضی سے سبق سیکھ چکے: عباس عراقچی
امریکی ریاستی انتخابات: ہیلی سٹیونز کا ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان
واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر