(تجاہلِ عادلانہ)
حضرتِ انسان اشرف المخلوقات کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہونے کے باعث دیگر تمام مخلوقات سے اعلٰی و ارفع گردانا جاتا ہے۔ انسانی شخصیت ہمہ جہت پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ انسانی شخصیت کی جاذبیت اور حُسن و دلکشی نمایاں اوصاف کے ساتھ اُبھرتی ہے۔ جس طرح شکل و صورت، خدّ و خال، وضع قطع اور آواز و بیان میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے مشابہت رکھنا ایک مشکل امر ہے اسی طرح انسانی سوچ، عقل، جذبات، خیالات، تصورات، ذہانت و فطانت اور ویژن میں ہر انسان دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے۔ مگر سب سے منفرد، حیرت انگیز اور thought provoking انسانی رویّے اور اُن سے متشکل ہونے والی روز مرّہ سماجی زندگی کی صورت گری ایک الگ اور مفصّل بحث کی متقاضی ہے۔
ہمارے معاشرتی رویّے بڑے دلچسپ اور تغیّر پذیر ہوتے ہیں۔ ان میں پائیداری یا مستقل مزاجی ڈھونڈنا قدرے مشکل کام ہے۔ انسانی فطرت کی پیدائش، نمو، ترویج اور مظاہر میں کئی طرح کی پیچیدگیاں اور بھول بھلّیاں ہیں کہ کسی بھی صاحب عقل و خرد انسان سے ہمہ وقت ایک ہی طرح کے رویّہ کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ہماری مسکراہٹ، ہمارا غصّہ، ہمارا پیار و ہمدردی اور نفرت و بےزاری کی وجوہات لمحہ موجود میں ہونے والی حرکات کے تابع ہوتی ہیں۔ البتہ کچھ چیزیں بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں۔ مثلاً ہم غصّہ اور جھنجھلاہٹ اکثر کمزور پر کرتے ہیں۔ شاذ ہی یہ غصّہ کسی صاحب اقتدار یا صاحب اختیار پر آیا ہو۔ اپنے آپ کو دوسروں سے افضل اور اعلٰی سمجھنے کا خبط عقل میں، فہم و فراست میں، ایمانداری میں، راستی و سچائی میں ہمارا قومی روگ بن چکا ہے۔ بات اگر یہاں تک رہ جائے تو غنیمت ہے مگر یہ خاصیت جب منفی روپ اختیار کرتی ہے تو نہ صرف باعثِ تکلیف بلکہ باعثِ ندامت و شرمندگی بھی بن جاتی ہے۔ خصوصاً اپنے علاوہ سب کو کمتر گرداننا۔ ہر وقت ایک جھوٹے احساس تفاخر میں رہنا خواہ یہ احساسِ تفاخر نسلی ہو، گروہی ہو، مسلکی ہو، روپے پیسے کا ہو، عہدوں مرتبوں کا ہو یا علمی فہم و فراست کا ہو۔ زندگی میں کئی مراحل پر قلب و نظر پر یہ احساس جاگزیں رہا کہ معاشرہ میں احساس برتری جو فی الحقیقت احساس کمتری کا ایک نمونہ ہوتا ہے اُس نے بہت بگاڑ پیدا کیا ہے اور کوئی بھی صاحبِ نظر اپنی ذات کا درست اور مبنی بر حقائق تجزیہ کرنے کا قائل نہیں ہوتا۔ اسے انگریزی میں self assessment بھی کہتے ہیں۔ اور ہم نے جب اپنی ذات پر اسکا تجزیہ کرنے کی کوشش کی تو اکثر و بیشتر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ محسوس ہوا کہ اپنی ذات کا تجزیہ یا محاسبہ شاید سب سے مشکل کام ہے۔ اور سب سے آسان یہ کہ اپنے علاوہ دوسروں کو گناہگار سمجھا جائے اور اس میں پھر ایک عجیب طرح کی لذّت رسانی کا پہلو بھی جھلکتا ہے جس کا ہم روزانہ اپنے گرد و پیش منظر دیکھتے ہیں۔
ہمارے معاشرہ میں ایک درد ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم عمومی طور پر منفی باتوں کا زیادہ اثر لیتے ہیں۔ منفی جذبات اُبھارنے بلکہ بعض اوقات ہماری تسلی و تشّفی ہی منفی خبر سُننے پر ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ خبر نہیں ہے کہ کسی کا بچہ کسی امتحان میں کامیاب ہو گیا، کسی کے کاروبار میں ترقی ہوئی، کسی کو محکمانہ اعزاز سے نوازا گیا یا مقدر کا ستارہ اُس پر مہربان ہے۔ ہاں البتہ کسی کا کاروبار ٹھپ ہو جائے، کسی کا بچہ فیل ہو جائے، کسی کی محکمانہ پروموشن رُک جائے یا کسی کے بیٹے یا بیٹی کی طلاق ہو جائے یا کسی بھی طرح کا اُس کے بارے میں منفی تاثر اُبھرے ہم فوری طور پر اس طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس میں بھی ہم راحت اور آسودگی کا سامان ڈھونڈتے ہیں اور پھر مزے لے لے کر اسکا تذکرہ اور چرچا کرتے ہیں۔ ہمارے ایک مہربان دوست اپنے بچپن کا واقع سناتے ہیں کہ ایک دفعہ اُنکے والد کی گھوڑی بیمار ہو گئی، برادری اور گاؤں کے لوگ عیادت کے لیے دن بھر آتے رہے۔ مگر ایک “شریف آدمی”وقفے وقفے سے آ کر پوچھتا کہ اب گھوڑی کا کیا حال ہے تو ہمارے دوست کے والدِ محترم نے کہا کہ یار چلے جاؤ اور اطمینان رکھو کہ صُبح تک یہ گھوڑی زندہ نہیں رہے گی۔ آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ آغازِ صبح سے رات گئے تک انواع و اقسام کے بڑے خوبصورت اور جانفزا پیغامات کی ترسیل جاری رہتی ہے۔ بڑی کمال کی پوسٹیں share کی جاتی ہیں۔ دُنیا و آخرت کی سرخروئی اور کامیابی کے نسخے بیان کیے جاتے ہیں۔ انسانی اخلاق و کردار پر خصوصی توجّہ دی جاتی ہے اور ہمارا قبلہ درست کرنے کی بھرپور سعی کی جاتی ہے۔ مگر شاید عملی طور پر ان تمام پیغامات اور posts کا ہمارے کردار و عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہم بے دیانی میں ایسی بے شمار posts آگے forward کرتے جاتے ہیں جن کے نفسِ مضمون پر نہ کبھی ہم غور کرتے ہیں نہ ہی ہمارے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے۔
انسانی کردار سازی میں عفو و درگزر، احسان، مروّت، شفقت، ہمدردی، قربانی، برداشت اور رکھ رکھاؤ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر ہمارے عمومی رویّے اسکے برعکس نظر آتے ہیں۔ بڑی چھوٹی بات پر آپے سے باہر ہو جانا، عدم برداشت، غصّہ، نفرت، ایذا رسانی، حسد، بغض اور کینہ ہر قول و فعل سے چھلکتا نظر آتا ہے۔ مانا کہ حسد ایک ناقابلِ علاج مرض ہے۔ ہم نے چند یوم قبل امام شافعیؒ کا ایک خوبصورت قول پڑھا کہ “جس شخص کے ساتھ تمہاری دشمنی کی واحد وجہ حسد ہو اُسکی طرف کبھی دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاؤ کہ حسد قبر کی دیواروں تک اُسکا پیچھا کرتا ہے” اسی طرح خاتم النبین سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ “جس دل میں رائی برابر بھی کینہ ہو گا وہ جنت کی ہواؤں سے دور رہے گا”
ہم تو ہر طرف سے حسد و بغض و کینہ کی زد میں ہوتے ہیں کبھی ہم ان حرکات قبیحہ کے خود مرتکب ہوتے ہیں تو کبھی ہم انکا شکار۔ نہ ہماری عبادات اور نہ ہی ہماری پارسائی اس میں حائل ہوتی ہے۔ اپنی کامیابیوں پر نازاں ہونے کا ہر کسی کو حق ہے مگر دوسروں کی ناکامیوں کا جشن منانا کسی بھی مذہب اور اخلاقیات کے پیروکار اختیار نہیں کر سکتے۔ کسی دوسرے کا مناسب الفاظ میں بلکہ داد و تحسین کے انداز میں ذکر اُسکی عدم موجودگی میں کرنا نہایت اعلٰی انسانی اوصاف میں سے ہے۔ مگر یہ وصف ہمارے معاشرے سے بالکل ناپید نہیں تو آہستہ آہستہ کمیاب ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ ہماری تو اُٹھان ہی اعلٰی مذہبی و اخلاقی بنیادوں پر ہوئی تھی۔ ہمارے دین میں تو عبادات سے زیادہ معاملات اور اخلاقی محاسن پر زور ہے کہ ہم تو اشرف المخلوقات ٹھہرے۔ اس وقت معاشرہ میں افراط و تفریط کی بجائے توازن اور معتدل رویّوں کی ضرورت ہے جو ہمارے انگ انگ اور ہر رنگ سے عیاں ہو۔ جو ہماری گفت و شنید سے نمایاں ہوں۔ جو ہمارے اخلاق و کردار سے جھلکتا ہو کہ اس گھٹن زدہ اور اخلاقی طور پر توڑ پھوڑ کے شکار معاشرہ میں اس وقت باہمی محبت، الفت، شفقت، احسان، برداشت، درگزر، ہمدردی اور خیر خواہی سے بڑھکر کوئی اکسیر علاج نہیں۔
دوسروں کی کامیابی پر خُورسند رہنا مشکل اور اپنی ناکامیوں پر نظر رکھنا اور اُنکا تجزیہ کرنا مشکل تر ہے۔ ہر ناکامی کا ذمّہ دار کسی دوسرے کو گرداننا اور ہر ناکامی کے در پردہ کسی سازش کی ٹوہ لگانا ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ وسیع القلبی اور تسامح معاشرہ سے مفقود اور ناپید ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم اس بنیادی فلسفہ کی نفی کر رہے ہیں کہ زندگی ہمیشہ اپنی خوبیوں پر نہ کہ دوسروں کی ناکامیوں پر گزرتی ہے۔
ہمارا روز مرّہ کا مشاہدہ ہے کہ متلوّن مزاجی یا غیر مستقل مزاجی ہمارے سماجی کلچر کا ایک باقاعدہ متعّین شدہ کردار بن چکا ہے۔ وجہ عیاں ہے کہ مستقل مزاجی کے لیے جس مستحکم کردار، توانائی، حوصلہ اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے وہ خال خال دستیاب ہے۔ ہمارے عمومی رویّے اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد کا شکار ہیں۔



