جینان (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ میں واقع شان ڈونگ یونیورسٹی آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی (ایس یو سی ٹی)کے ای کامرس کلاس روم میں 21 سالہ پاکستانی مجیب اپنے چینی ہم جماعتوں کے ساتھ لائیو سٹریم کے ذریعے آن لائن تجارت کے انتظام سے متعلق کورس کر رہا ہے۔ وہ اس شعبے کے تمام مراحل سیکھ رہا ہے، جن میں مصنوعات کا انتخاب، مواد کی منصوبہ بندی، کاروباری سرگرمیوں کا انتظام اور اعداد و شمار کا تجزیہ شامل ہیں۔ ایک اور پاکستانی طالب علم جہان زیب عالمی مقابلہ برائے فنی و پیشہ ورانہ کالجوں کی مہارتوں کی تیاری کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سسٹم چلانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔دونوں طلبہ کا تعلق گوادر سے ہے اور وہ گوادر میں پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ (پی سی ٹی وی آئی) میں زیر تعلیم ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت چینی تعاون سے قائم کئے گئے اس ادارے نے ان کی زندگیوں کا رخ بدل دیا ہے۔گوادر بندرگاہ سی پیک کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ 2021 میں چینی تعاون سے تعمیر کیا گیا پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کیمپس مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ تقریباً 23 ہزار 600 مربع میٹر رقبے پر قائم اس ادارے کو 360 طلبہ کی گنجائش اور سالانہ ایک ہزار سے زائد تربیتی مواقع فراہم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔تاہم پاکستان کے حوالے کئے جانے کے بعد بھی یہ ادارہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر سکا۔ جامعہ گوادر کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور احمد نے امید ظاہر کی کہ چین کے اعلیٰ معیار کے فنی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون سے اس ادارے کو موثر انداز میں فعال بنایا جا سکے گا۔اسی دوران گوادر بندرگاہ پرتجارتی سرگرمیوں میں اضافے اور آزاد تجارتی زون میں کاروباری اداروں کی آمد کے باعث مقامی مارکیٹ میں ای کامرس، کولڈ چین لاجسٹکس، بندرگاہ کی مشینری چلانے اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے ماہرین کی فوری ضرورت پیدا ہو گئی۔جنوری 2023 میں شان ڈونگ یونیورسٹی آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان کی وزارت بحری امور کے تحت گوادر پورٹ اتھارٹی اور جامعہ گوادر کے ساتھ مل کر پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔شراکت دار اداروں نے نصاب تیار کیا، جدید تعلیمی پروگرام متعارف کرائے اور آن لائن و بالمشافہ تدریس کا مشترکہ نظام قائم کیا۔ چینی اساتذہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے پڑھاتے ہیں اور ہر ہفتے مقررہ اوقات میں براہِ راست آن لائن کلاسیں لیتے ہیں، جبکہ پاکستانی اساتذہ عملی مشقوں، گروپ مباحثوں اور منصوبوں پر کام کرنے کی سرگرمیوں کا انتظام کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت اب 7 شعبوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، جن میں 48 بنیادی کورس شامل ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 1,152 گھنٹے تدریسی سرگرمیاں انجام دی جا چکی ہیں۔مجیب اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے ابتدائی طلبہ میں شامل ہے۔ اس نے 2024 میں ادارے کے ای کامرس پروگرام میں داخلہ لیا اور گوادر میں پہلے 18 ماہ بنیادی نظریاتی تعلیم اور عمومی مضامین کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’گوادر میں ہم چینی اساتذہ سے آن لائن پڑھتے تھے۔ اب میں چین میں ہوں، حقیقی کلاس رومز میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہوں اور کمپنیوں کے دورے بھی کر رہا ہوں۔ یہ تجربہ بالکل مختلف ہے۔اکتوبر 2025 میں وہ ان 15 نمایاں طلبہ میں شامل تھا جو اعلیٰ تعلیم، فنی تربیت اور انٹرن شپ کے لئے 18 ماہ کی مدت پر جنان پہنچے۔ یہ طلبہ شان ڈونگ یونیورسٹی آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جو طلبہ مطلوبہ کریڈٹ حاصل کرنے اور دونوں اداروں کی تعلیمی شرائط پوری کرنے میں کامیاب ہوں گے، انہیں دونوں اداروں کی اسناد مل سکتی ہیں۔سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے طالب علم جہان زیب نے کہا کہ چین آنے کے بعد جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ روزمرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’میں صرف کلاس روم میں ہی نہیں سیکھتا بلکہ روزمرہ سرگرمیوں، مثلاً موبائل فون کے ذریعے ادائیگی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ پاکستان کے مقابلے میں یہاں ٹیکنالوجی کا استعمال کہیں زیادہ وسیع ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کا عملی تجربہ میری تعلیم کے لئے بہت مفید ہے۔صرف مچھلی دینے کے بجائے اس شراکت داری میں لوگوں کو مچھلی پکڑنا سکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان میں اساتذہ تو موجود تھے، لیکن پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا تجربہ نہیں تھا، جبکہ چین کے پاس یہ تجربہ تھا مگر وہ طویل مدت کے لئے وہاں اساتذہ تعینات نہیں کر سکتا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لئے دونوں ممالک نے مقامی انسٹرکٹرز کی تربیت کا ایک ماڈل تیار کیا۔2024 سے پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے پاکستانی اساتذہ کو مرحلہ وار منظم تربیت کے لئے چین بھیجا جانے لگا۔ ان میں شامل سعود نے تربیت مکمل کرکے پاکستان واپسی کے بعد چینی تدریسی طریقوں اور عملی تربیت کے وسائل کو اپنی کلاسوں میں استعمال کرنا شروع کیا۔سعود نے کہا کہ ’’میں اب جس تربیتی سافٹ ویئر کو استعمال کرتا ہوں، وہ چین میں میری تربیت کے دوران شان ڈونگ یونیورسٹی آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی کے اساتذہ کی رہنمائی میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ بہت موثر ثابت ہوا ہے اور میرے طلبہ اسے پسند کرتے ہیں۔ میں اور میرے طلبہ دونوں چین میں فنی تعلیم کے فروغ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔2025 میں شان ڈونگ یونیورسٹی آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان کے 3 انتظامی اہلکاروں کو عارضی طور پر انتظامی تربیت بھی فراہم کی۔ اس طرح منصوبہ تدریسی صلاحیتوں میں اضافے سے آگے بڑھ کر تدریس اور انتظامی امور، دونوں شعبوں میں مشترکہ معاونت تک پہنچ گیا۔ نومبر2025 میں پاکستانی اساتذہ کے دوسرے گروپ کے 3 ارکان نے چین میں تربیت مکمل کی اور وطن واپس آ گئے۔ اب پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ میں 15 مقامی اساتذہ پر مشتمل ایک بنیادی ٹیم کام کر رہی ہے، جن میں سے9 چین میں تربیت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ 6اساتذہ کو چینی اساتذہ آن لائن رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔2023 سے 2025 کے دوران شان ڈونگ یونیورسٹی آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کو ادارہ جاتی انتظام کے درجنوں نظام، پیشہ ورانہ تدریس کے معیارات، فنی تربیت کے اصول اور مختلف کورسز کا تعلیمی مواد فراہم کیا۔ اب تک اس ادارے میں طلبہ کے چار گروپ داخلہ لے چکے ہیں اور ان کی مجموعی تعداد 1,200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ادارے میں پہلےہی 15 مقامی اساتذہ پر مشتمل بنیادی ٹیم موجود ہے، جن میں سے 9 چین میں تربیت مکمل کرکے واپس آ چکے ہیں جبکہ 6 اساتذہ چینی اساتذہ سے آن لائن تدریسی رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔چین آنے کے بعد مجیب نے کئی چینی شہروں کا دورہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ’’یہ شہر خوبصورت اور بہت صاف ستھرے ہیں۔ مختلف مقامات کی سیر میرے تعلیمی تجربے کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ میں نے چینی ثقافت کے بارے میں مزید جانا، مختلف لوگوں سے ملاقات کی اور نئے دوست بنائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چین میں تعلیم حاصل کرنے کا تجربہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چینی طلبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے سے بہت مدد ملتی ہے۔ میں ان سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ اس کے علاوہ مجھے اساتذہ کا تدریسی انداز اور ہمارے ساتھ ان کا دوستانہ رویہ بھی بہت پسند ہے۔مستقبل کے حوالے سے مجیب نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر ممکن ہوا تو وہ چین کی کسی یونیورسٹی میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے گا، یا پاکستان واپس آ کر اپنے سیکھے ہوئے علم اور مہارتوں کو ملک کی خدمت کے لیے استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان میں بہت سی چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں ہماری بندرگاہ کے آس پاس کام کرنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ میں ان میں سے کسی کمپنی میں ملازمت کرنا چاہوں گا۔جہان زیب کا ارادہ ہے کہ وہ پہلے بیچلر اور پھر ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے محنت کریں تو آپ اپنے ملک کے لئے بھی زیادہ کام کر سکتے ہیں۔‘‘
سی پیک کہانیاں|گوادر سے جنان تک: سی پیک کے تحت پیشہ ورانہ تربیت سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی



