تیانجن (شِنہوا) چین کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام حالیہ برسوں کے دوران مختلف صنعتوں کو سالانہ اوسطاً تقریباً ایک کروڑ ہنرمند افراد فراہم کر رہا ہے۔
چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم سے متعلق یہ حقائق نامہ چین کے شمالی شہر تیانجن میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و ترقی 2026 کے موقع پر جاری کیا گیا۔ یہ کانفرنس اس ہفتے جمعرات سے ہفتے تک جاری رہی۔
حقائق نامے میں بتایا گیا کہ چین میں نئے شامل ہونے والے ہنرمند افراد کی اوسط تعلیمی مدت 14.35 سال تک پہنچ گئی ہے۔
حقائق نامے کے مطابق 2025 میں اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں سے 58 لاکھ 20 ہزار طلبہ نے گریجویشن مکمل کی جبکہ ثانوی فنی و پیشہ ورانہ سکولوں سے تقریباً 52 لاکھ 20 ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہوئے۔
چین دنیا کا سب سے بڑا فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی نظام رکھتا ہے جہاں 9 ہزار 151 ثانوی فنی و پیشہ ورانہ سکول، ایک ہزار 554 اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ کالج اور فنی و پیشہ ورانہ انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کرنے والے 124 ادارے موجود ہیں۔
ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نصف سے زیادہ تعداد اعلیٰ فنی و پیشہ ورانہ اداروں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 52 عام اعلیٰ تعلیمی ادارے فنی و پیشہ ورانہ بیچلر ڈگری پروگرام بھی پیش کرتے ہیں۔
2025 کے اختتام تک چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے مضامین کی فہرست میں 19 بڑے شعبے، 97 ذیلی شعبے اور ایک ہزار 491 مضامین شامل تھے۔ یہ مضامین قومی معیشت کے تقریباً تمام شعبوں اور صنعتوں کی 41 بڑی اقسام کا احاطہ کرتے ہیں۔
تیانجن میں منعقدہ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے عالمی معیارات کا فریم ورک مشترکہ طور پر جاری کیا گیا جس کی تیاری میں چین نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اس فریم ورک کو 45 ممالک نے مشترکہ طور پر جاری کیا۔
اس فریم ورک میں فنی و پیشہ ورانہ سکولوں کے نظام کو بہتر بنانے، تمام افراد کے لئے تاحیات تعلیم و تربیت کا نظام قائم کرنے، صنعت اور تعلیم کے اشتراک سے تدریسی مواد تیار کرنے، تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کے ذریعے تدریسی ٹیمیں تشکیل دینے اور تعلیم و تدریس میں اصلاحات کے لئے اے آئی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
چین میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے ذریعے سالانہ تقریباً ایک کروڑ ہنرمند افراد کی تیاری



