تاشقند (شِنہوا) ایک ازبک ماہر نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری سے لے کر ماحول دوست توانائی اور علاقائی ریلوے تک چین کے ساتھ ازبکستان کا تعاون اعلیٰ سطح کے سیاسی اعتماد کو ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کر رہا ہے۔
ازبکستان کے تھنک ٹینک، ڈیویلپمنٹ سٹریٹجی سنٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلدور تولیاکوف نے شِنہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ روابط ایک وسیع تر اور گہرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں اور چین کے ساتھ تعاون نے وسطی ایشیائی ملک کے قومی ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔
تولیاکوف نے کہا کہ ’’سیاسی اعتماد سازگار حالات پیدا کرتا ہے، جبکہ عملی اقدامات اسے حقیقی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔‘‘
ازبک ماہر نے کہا کہ ’’تعاون کے ٹھوس نتائج وہاں سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جہاں کاروباری ادارے پہلے ہی کام کر رہے ہوں، بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہو چکا ہو اور نئے پیشے وجود میں آ چکے ہوں۔‘‘
تولیاکوف نے کہا حالیہ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک نے مستقبل کے لئے مزید بلند اہداف مقرر کئے ہیں۔
تولیاکوف نے کہا کہ سرمایہ کاری طویل مدت میں سب سے زیادہ فائدہ اس وقت دیتی ہے جب وہ مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
تولیاکوف نے کہا کہ ’’ایسے منصوبوں کی اہمیت صرف تیار شدہ مصنوعات تک محدود نہیں ہوتی۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان منصوبوں سے انجینئرنگ کی مہارت، دیکھ بھال، پرزہ جات اور خدمات کی طلب بھی پیدا ہوتی ہے۔
ازبک ماہر نے رابطہ کاری کے حوالے سے بھی یہی موقف پیش کیا اور زیر تعمیر چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے کا حوالہ دیا۔
عوامی سطح پر روابط کے حوالے سے تولیاکوف نے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی ویزا فری نظام کے کردار کو نمایاں کیا۔
چین کے ساتھ تعاون ازبکستان کے قومی ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھا رہا ہے، ازبک ماہر



