نیویارک (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کئے ہیں، جس کے تحت روس سے متعلق توانائی کے شعبے پر عائد اہم محصولات اور پابندیوں سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ پابندیاں اور محصولات روس اور ایران کے خلاف لنڈسے او گراہم ایکٹ 2026 کے تحت عائد کئے جانے تھے، جس کے نافذ ہونے میں ابھی چند روز باقی تھے۔
ٹرمپ نے حکم نامے میں کہا کہ ’’میں نے کانگریس کو تصدیق پیش کر دی ہے کہ اس طرح کی چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔‘‘
اس اقدام کے تحت روسی خام تیل اور گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک پر عائد کئے جانے والے آئندہ محصولات روک دیئے گئے ہیں، جن کی شرح 100 فیصد تک ہو سکتی تھی۔ اس کے علاوہ روس کے تیل بردار جہازوں کے ’’خفیہ بیڑے‘‘ اور توانائی و دفاع کے شعبوں کے خلاف پابندیاں بھی روک دی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ٹرمپ اور روس کے درمیان اس معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت عالمی منڈیوں میں روسی ڈیزل کی مزید فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے معاہدے کا اعلان بھی کیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے جمعے کو بتایا کہ معاہدے کے تحت روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کر سکتا ہے، نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے فوراً بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ ادھر واشنگٹن نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں کم کرنے میں مدد کے لئے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس اقدام کو نومبر کے اوائل میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں روس اور ایران پر پابندیوں کے متعلق لنڈسے او گراہم ایکٹ 2026 پر دستخط کئے تھے۔ اس قانون کو آنجہانی سینیٹر لنڈسے گراہم سے منسوب کیا گیا تھا۔
اس قانون کے تحت روسی خام تیل یا گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک سے امریکہ درآمد ہونے والی اشیاء پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ روس کو ہدف بنانے والی وسیع مالی پابندیوں اور توانائی کے شعبے پر پابندیوں کی بھی منظوری دی گئی تھی۔
ٹرمپ نے روس پر عائد بعض پابندیاں اور محصولات معطل کر دیئے



