مکاؤ (شِنہوا) چین کے مکاؤ خصوصی انتظامی علاقے میں منعقدہ ایک نمائش میں پھولوں کی عارضی خوب صورتی کو شیشے میں محفوظ کرکے دیرپا شکل دی گئی ہے۔ یہ نمائش چین میں شیشہ سازی کی 3 ہزار سال سے زائد قدیم تاریخ کو اجاگر کرتی ہے۔
پولی ایم جی ایم میوزیم میں ’’تابندہ چمک، زیبو کے شیشے کے فن پاروں کا ہنر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ نمائش میں قدیم اور جدید دور کے شیشے کے فن پاروں کی تقریباً 180 مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اس نمائش کی افتتاحی تقریب جمعرات کے روز منعقد ہوئی۔
لیو یوآن اور وانگ تونگ چھیانگ کا مجسمہ ’’ابدیت‘‘ بنفشی اور نیلے شیشے میں ایک ایسے پھول کی خوب صورتی کو پیش کرتا ہے جو مختصر وقت کے لئے کھلتا ہے۔ میوزیم کی نمائش سے متعلق رہنما کتابچے کے مطابق فن کاروں نے شیشے کو آگ پر گرم کیا اور ٹھنڈا ہوکر سخت ہونے سے پہلے اسے کھینچ کر اور موڑ کر پھول کی پنکھڑیوں کی شکل دی۔
نمائش میں دیگر فن پاروں کے علاوہ متحارب ریاستوں کے دور کے آنکھوں جیسے نقش و نگار والے موتی اور چھنگ سلطنت کے شاہی شیشے کے برتن بھی شامل ہیں۔
یہ نمائش چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر زیبو کی شیشہ سازی کی روایات کو اجاگر کرتی ہے۔ شہر کے نائب میئر گو چھنگ نے کہا کہ اب شہر کی شیشہ سازی کی صنعت میں مواد پر تحقیق، ڈیزائن، پیداوار اور ثقافتی سیاحت سمیت مختلف شعبے شامل ہیں جبکہ ہنرمند شیشہ پگھلا کر مختلف اشکال بنانے اور اس پر نقش و نگار تراشنے جیسی تکنیکوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔
مکاؤ میں نمائش کے ذریعے چین میں شیشہ سازی کی 3ہزار سالہ تاریخ اجاگر



