بیجنگ (شِنہوا) جدید شہری نظام کو بہتر بنانے کے نئے طریقوں پر غور کے لئے چینی اور بین الاقوامی ماہرین بیجنگ میں جمع ہوئے، جہاں عوامی شکایات کے فوری ازالے سے متعلق بیجنگ فورم 2026 شروع ہوا۔
دو روزہ فورم کا موضوع “ڈیجیٹل ذہانت کا دور اور عوامی شہر” تھا، جس میں 70سے زائد ممالک اور خطوں کے 3 ہزار 200 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی۔
2019 میں 2کروڑ سے زیادہ آبادی والے بیجنگ نے عوامی شکایات کے فوری ازالے کا ایک نظام متعارف کرایا تھا جس کا مقصد شہریوں کے مسائل پر فوری توجہ دینا اور روزمرہ مشکلات کو موثر انداز میں حل کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت 60 سے زیادہ ہیلپ لائنز کو یکجا کرکے ایک ہی نمبر 12345 پر منتقل کر دیا گیا جس کے ذریعے شہری اپنی شکایات اور مسائل حکام تک پہنچاتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چینی دارالحکومت میں گزشتہ 7 سال سے کچھ زائد عرصے کے دوران عوام کی جانب سے موصول ہونے والی تقریباً 20کروڑ شکایات اور درخواستوں پر کارروائی کی گئی۔ ان کے ازالے اور شہریوں کے اطمینان دونوں کی شرح 97 فیصد سے زیادہ رہی۔
چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے صدر گاؤ شیانگ نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ بیجنگ میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کی اصلاحات کا آغاز ایک ہاٹ لائن اور پلیٹ فارم سے ہوا تھا جو اب ایک ایسے شہری نظم و نسق کے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں بڑے پیمانے پر اعدادوشمار اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے عوام کو درپیش متعدد اہم مسائل حل کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام پر مرکوز شہری نظم و نسق میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا بھر میں ایک نمایاں رجحان بن چکا ہے۔
اس سال کے فورم میں شہری نظم و نسق سے متعلق متعدد تحقیقی نتائج پیش کئے گئے جن میں اس اصلاحاتی نظام کے نظریاتی مطالعے، دنیا بھر کے شہروں میں ہاٹ لائن سروسز کی کارکردگی کا جائزہ اور مختلف ممالک میں نظم و نسق کے حوالے سے جدت کے عملی نمونے شامل تھے۔
فورم میں اس اصلاحاتی نظام سے متعلق انگریزی زبان میں دو مطبوعات بھی جاری کی گئیں۔ ان میں “شہری نظم و نسق کیسے کام کرتا ہے، بیجنگ میں عوامی شکایات کے فوری ازالے کا نمونہ” کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب اور ” تقابلی پالیسی تجزیے کا تحقیقی و عملی جریدہ” کا ایک خصوصی شمارہ شامل ہے۔ یہ دونوں مطبوعات عملی تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کو نظریاتی تشریح میں ڈھالنے اور چین کے تجربات کو عالمی سطح پر دیگر ممالک کے تجربات سے موازنہ کرنے کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔
یونان کے شہر ایتھنز کے اول نائب میئر جارجیوس کے۔ جیاناروس نے کہا کہ بیجنگ کی شہری خدمات کے نظام کے تجربے سے ایتھنز کو عوام کے لئے شہری نظم و نسق کو فروغ دینے اور ایسا شہر بنانے میں قیمتی رہنمائی ملی ہے جو اپنے شہریوں کی بات سنتا اور ان کے مسائل کے حل پر توجہ دیتا ہے۔
شکایات کے فوری ازالے کے ہر دو سال بعد منعقد ہونے والے، اس سال کے بیجنگ فورم میں 6 متوازی ذیلی فورمز بھی شامل تھے۔ ان میں شریک افراد نے کہا کہ اس اصلاحاتی نظام نے بڑے شہروں کے نظم و نسق میں تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دنیا کو چین کے نظم ونسق کو سمجھنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔
بیجنگ فورم میں جدید شہری نظم و نسق کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے پر غور



