واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی “بڑے پیمانے پر” تلاش جلد شروع ہونے والی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ماہرین کے مطابق اس قطبی جزیرے میں ’’آسانی سے نکالا جا سکنے والا تیل‘‘ اتنی بڑی مقدار میں موجود ہے جو دنیا کے تقریباً کسی بھی دوسرے خطے سے کہیں زیادہ ہے۔
تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی مخصوص تخمینہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی تلاش کے منصوبوں کی تفصیلات بتائیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں امریکہ پر کوئی بھی حملہ گرین لینڈ کی سمت سے ہی آنا پڑے گا، جہاں ہمارا دفاعی نظام ڈرونز، میزائلوں یا کسی بھی ایسے ہتھیار کو معمول کے مطابق مار گرائے گا جس کا ابھی تصور بھی نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ستمبر کے آخر میں امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان طے پانے والے ایک وسیع معاہدے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کے تحت جزیرے پر امریکی فوجی موجودگی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ تک دباؤ ڈالنے کے بعد طے پایا۔ ٹرمپ بارہا ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے فوجی یا اقتصادی ذرائع استعمال کرنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ اس تجویز کو نیٹو کے اتحادی ممالک اور گرین لینڈ کے باشندوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رواں سال کے آغاز میں مشرق وسطیٰ میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے عالمی توانائی منڈیوں پر مسلسل دباؤ ہے۔ اس تنازع کے نتیجے میں ایندھن کی عالمی منڈیوں میں رسد کا ایسا بحران پیدا ہوا ہے جسے بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اپنی تاریخ میں ’’رسد میں سب سے بڑی رکاوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔
گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی “بڑے پیمانے پر” تلاش شروع کی جائے گی، ٹرمپ



