نئی دہلی،جنیوا(نیشنل ٹائمز)بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کیلئے نوجوانوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے ہفتے کو شہر کے مرکزی حصے کو سیل کر دیا ،پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات، سخت سکیورٹی کے باوجود ہزاروں مظاہرین جمع ، 3ہزار سے زائد گرفتار،57 میٹرو سٹیشنز اور بازاربند، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی، انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کی طنزیہ آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج کی کال دی تھی اورچیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے ۔تفصیلات کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے نئی دہلی کے مقررہ احتجاجی مقام جنتر منتر پر جمع ہونے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرے کے آغاز سے پہلے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں پابندیوں کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور ہجوم کو بے قابو ہونے سے روکنا ہے تاہم اس کے باوجود شہر کے مختلف مقامات پر چھوٹے احتجاجی مظاہرے ہوئے جہاں نوجوانوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے حق میں نعرے لگائے۔
عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے متعدد مظاہرین کو پکڑ کر بسوں میں منتقل کیا۔احتجاجی تحریک ’’کاکروچ‘‘کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور اس کے دو سینئر رہنماؤں سورَو داس اور اشوتوش رانکا کو ممبئی سے نئی دہلی پہنچنے والی پرواز سے اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا ۔بھارتی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہلی میں 2 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ ممبئی میں بھی مظاہرین کی گرفتاریاں ہوئیں۔ انڈین ایکسپریس کی گزشتہ ہفتے شائع ہونے رپورٹ کے مطابق انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ اندراجات حذف کیے گئے جبکہ چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت بعض حکام نے اس عمل پر تحفظات ظاہر کئے تھے ۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں نے حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج پر اثر ڈالا جس کی وجہ سے بی جے پی کامیاب ہوئی ۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے حذف ہوا ہے تو وہ دوبارہ اندراج کرا سکتا ہے ۔ ادھر نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے سٹیشنوں سے آنے اور جانے والی 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 3 ہزار تک مظاہرین گرفتار کیے گئے ۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے بھارت میں انتخابی حکام کے مبینہ طرزِ عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے زیرِ حراست افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر بھارت کے مرکزی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ہفتے کے روز مظاہرین پر زور دیا کہ وہ الیکشن کمیشن کے مبینہ ناروا طرزعمل کے خلاف احتجاج جاری رکھیں، سکیورٹی سخت کیے جانے کے باوجود پیچھے نہ ہٹیں،بھارت کے نوجوانوں پر انہیں فخر ہے اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔



