امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

واشنگٹن/دی ہیگ (شِنہوا) امریکہ کے محکمہ خزانہ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا، جس کے بعد دی ہیگ میں قائم عدالت کے خلاف امریکی پابندیوں کا دائرہ انفرادی عہدیداروں سے بڑھ کر خود ادارے تک پھیل گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’’آج امریکہ عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ ہم اس خودسر عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائیں گے، اس کے وسائل بند کر دیں گے اور کام کرنے کی اس کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے۔‘‘
روبیو نے کہا کہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی فوجداری عدالت کو کبھی بھی امریکی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکہ کبھی اس عدالت کا رکن نہیں بنا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں۔‘‘
محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق عدالت کو خصوصی طور پر نامزد شہریوں اور ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اس کے اثاثے منجمد کرنے اور امریکی شہریوں و اداروں کے ساتھ لین دین پر پابندیاں عائد ہوں گی۔
نئی پابندیوں کے ساتھ محکمہ خزانہ نے 4 عمومی اجازت نامے بھی جاری کئے ہیں، جن کے تحت عالمی فوجداری عدالت سے متعلق بعض لین دین کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں عدالت کے معمول کے کام جاری رکھنے کے لئے ضروری سرگرمیوں کی 180 روزہ اجازت کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات، عدالت کے پنشن منصوبے اور آئی سی سی کی تحویل میں موجود افراد سے متعلق سرگرمیوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دینا شامل ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک معلوماتی دستاویز میں کہا کہ 180 روزہ اجازت نامے کا مقصد عالمی فوجداری عدالت کے رکن ممالک کو وقت دینا ہے تاکہ وہ عدالت کے حوالے سے امریکہ کے تحفظات دور کرنے کے لئے سفارتی اور قانونی حل کی جانب ٹھوس پیش رفت دکھا سکیں۔
یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے فروری 2025 میں دستخط کئے گئے ایک انتظامی حکم کے تحت عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر پہلے سے عائد امریکی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اب تک اس حکم کے تحت ایک درجن سے زائد افراد پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جن میں جاپان سے تعلق رکھنے والی آئی سی سی کی صدر توموکو اکانے بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل پر اپنے دائرہ اختیار کا ناجائز استعمال کر رہی ہے، حالانکہ دونوں ممالک اس روم معاہدے کے فریق نہیں ہیں جس کے تحت یہ عدالت قائم کی گئی تھی۔
2024 میں عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ تنازع سے متعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی فوجداری عدالت کا موقف ہے کہ اسے اپنے رکن ممالک کی سرزمین پر مبینہ طور پر کئے گئے جرائم کی سماعت کا اختیار حاصل ہے، خواہ ملزم کی شہریت کچھ بھی ہو۔
عالمی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو سختی سے مسترد کیا۔ عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ’’یہ قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادی اساس پر حملہ ہے، جو اس سادہ اصول کو نشانہ بناتا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔‘‘ عدالت نے عزم ظاہر کیا کہ یہ اقدام اسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے نہیں روک سکے گا۔



  تازہ ترین   
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر ایوان صدر میں اہم اجلاس،12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر غور
پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے حوالے کر دیا:عطا اللہ تارڑ
شہباز شریف کا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، ملاقات کی دعوت دیدی
بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کی تیاری
پاکستانی سفیر آمنہ بلوچ کی اسحاق ڈار سے ملاقات، پاک ترکیہ تعلقات مستحکم بنانے پر زور
سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حوثیوں کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان
پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا
ٹرمپ کا پوتن سے ٹیلی فونک رابطہ، توانائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر