صنعا (شِنہوا) یمن کے حوثی گروپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک تازہ بیلسٹک میزائل حملہ کیا ہے، جبکہ سٹریٹجک آبنائے باب المندب کے قریب سرکاری فورسز کے خلاف بھی میزائل حملے کئے ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایک بیلسٹک میزائل نے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ’’درست انداز میں اپنے ہدف کو نشانہ بنایا‘‘ جس کے نتیجے میں فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔ سعودی حکام کی جانب سے تازہ حملے کے اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
سریع نے بین الاقوامی ایئر لائنز کو سعودی فضائی حدود سے پروازیں جاری رکھنے کے خلاف ایک ’’حتمی انتباہ‘‘ بھی جاری کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ حوثیوں کی فوجی کارروائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ انتباہ مسلمانوں کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضائی حدود پر لاگو نہیں ہوگا۔
حوثیوں کا تازہ دعویٰ منگل اور بدھ کو سعودی عرب کے 2 ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق 3 افراد ہلاک اور 36 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
حوثیوں نے دونوں ہوائی اڈوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سریع نے بدھ کو کہا تھا کہ متعدد ڈرونز نے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز نے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور جنوب مغربی عسیر خطے میں خمیس مشیط کے قریب شاہ خالد ایئربیس کو نشانہ بنایا۔
بعد ازاں بدھ کو یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس نے مملکت میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کے جواب میں ایک جامع کارروائی کرتے ہوئے کئی صوبوں میں حوثیوں کے 82 فوجی اہداف تباہ کر دیئے ہیں۔
حالیہ جھڑپیں 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے شدید کشیدگی ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ سے متاثرہ ملک میں بڑی سطح کی لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی۔
یمن میں تنازع 2014 کے اواخر میں شروع ہوا، جب حوثیوں نے صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ 2015 میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔
یمن کے حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ



