نیروبی (شِنہوا) نیروبی کی سب سے بڑی غیر رسمی آبادی کیبیرا میں بجلی کی بندش کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ کئی راتوں میں ایک چھوٹا سا سولر لیمپ اور چند موم بتیاں ہی وہ واحد روشنی ہوتی ہیں جن کی مدد سے مریم اچینگ کینیاٹا اپنی کتابیں پڑھتی ہیں۔
23 سالہ یونیورسٹی طالبہ جن کا چینی نام ’’می یاؤ‘‘ ہے، چینی زبان کی کلاسز کی فیس ادا نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مختصر سے گھر کو چینی زبان سیکھنے کے ایک مکمل ماحول میں تبدیل کر لیا۔
کینیاٹا نے اپنے فون میں ہر رابطے کا نام چینی زبان میں رکھ دیا، چینی ٹی وی ڈراموں کے مکالمے دہراتی رہیں، زبان سیکھنے والی ایپس پر زبان کے ساتھی تلاش کئے اور چینی زبان کے وائس چیٹ رومز میں شامل ہو گئیں جہاں وہ خود کو مسلسل چینی بولنے پر مجبور کرتی تھیں۔
کینیاٹا نے کہا کہ ’’میں نے اپنے پاس موجود فون اور انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ چینی زبان شامل کر لی۔‘‘
صرف 6 ماہ کے اندر انہیں احساس ہوا کہ وہ بغیر سب ٹائٹلز کے چینی ڈرامے کی مکمل 40 منٹ کی قسط سمجھ سکتی ہیں۔
اپریل میں کینیاٹا نے غیر ملکی یونیورسٹی طلبہ کے لئے ’’چائنیز برج‘‘ کے عنوان سے چینی زبان کی مہارت کے 25 ویں مقابلے کے کینیا ڈویژن کے فائنل میں جگہ بنائی۔
سرخ چادر اوڑھے کینیاٹا نے ڈریگنز کی تصاویر سے مزین ایک بڑا ڈھول بجایا اور چین کے ہان سلطنت کے بانی بادشاہ لیو بانگ کی 2 ہزار سال سے زیادہ قدیم نظم ’’عظیم باد صبا کا نغمہ‘‘ سنائی۔
کینیاٹا نے کہا کہ ’’شروع میں میں اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ کانپ رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی موسیقی شروع ہوئی میں کہانی میں ڈوب گئی اور سب کچھ خود بخود درست ہوتا چلا گیا۔‘‘
اس فن کے مظاہرے نے انہیں مقابلے کے کینیا ڈویژن میں کامیابی دلائی اور چین میں ہونے والے عالمی فائنل کے 15 بہترین امیدواروں میں شامل کر دیا۔
چینی زبان میں ان کی باقاعدہ تربیت بہت کم تھی۔ انہوں نے نیروبی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں 3 ماہ تعلیم حاصل کی لیکن اگلے درجے میں جانے کے لئے درکار 2 ہزار کینیائی شلنگ (تقریباً 15.5 امریکی ڈالر) کی امتحانی فیس ادا نہ کر سکنے کے باعث تعلیم چھوڑ دی۔
خود سے چینی زبان سیکھنے اور انسٹی ٹیوٹ کے ڈھول بجانے والے کلب میں مشق کرنے سے صورتحال بدل گئی۔ کلب کے کوچ نے کہا کہ ان کی بولی جانے والی چینی زبان ’’بہت اچھی‘‘ تھی اور پھر انہیں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں دوبارہ متعارف کرایا۔
انسٹی ٹیوٹ نے انہیں مقابلے کے لئے ایک اہم امیدوار کے طور پر منتخب کیا، انہیں خصوصی تربیت دی اور فیس معاف کر دی، جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ کلاس روم میں واپس آ گئی۔
سخت تربیت کے دوران کینیاٹا نے انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے پیش کیا گیا ہاسٹل کا کمرہ لینے سے انکار کیا۔ مینگ کے مطابق وہ موسم کیسا بھی ہو، ہر روز گھر واپس جاتی تھی تاکہ اپنے چھوٹے بھائی کی دیکھ بھال کر سکیں۔
یہ گھر کیبیرا میں ہے۔
پچیس سال قبل کینیاٹا کے والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کی امید میں کینیا کے مغربی شہر کسومو سے نیروبی منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے کیبیرا میں رہائش اختیار کی۔
کینیاٹا کی والدہ ہیلن جوما بونیو نے اپنے بچوں کی پیدائش کے بعد سے اپنے لئے نئے کپڑے نہیں خریدے۔ ان 25 برسوں میں بیشتر عرصے تک وہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 5 بجے گھر سے نکل کر سڑکوں پر مونگ پھلی اور صابن فروخت کرتی رہیں اور عموماً رات 9 بجے سے پہلے گھر واپس نہیں آتی تھی۔
اس کے باوجود پیسوں کی ہمیشہ کمی رہتی تھی۔ خاندان کو کھانے کے لئے روزانہ تقریباً 600 شلنگ درکار ہوتے تھے اور اکثر یہ رقم بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ جب کینیاٹا یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو ایک سال کی ٹیوشن فیس، رہائش اور دیگر اخراجات مجموعی طور پر ایک لاکھ 30 ہزار شلنگ (تقریباً ایک ہزار ڈالر) بنتے تھے۔
کینیاٹا نے اپنے ہر رشتہ دار اور دوست سے قرض لیا۔ کینیاٹا کے 92 سالہ دادا نے اپنے گاؤں میں ایک ’’ہرامبی‘‘ یعنی کینیا کی روایتی اجتماعی چندہ مہم کا اہتمام کیا اور 40 ہزار شلنگ جمع کئے۔
جب کینیاٹا نے فون کرکے بتایا کہ وہ مقابلہ جیت گئی ہیں اور فائنل کے لئے چین جائیں گی اس وقت بونیو مونگ پھلی فروخت کر رہی تھی۔
شروع میں انہیں سفر کے اخراجات کی فکر ہوئی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ چینی فریق تمام اخراجات برداشت کرے گا تو انہیں اپنی بیٹی کی سلامتی کی فکر لاحق ہوئی کیونکہ خاندان میں اس سے پہلے کسی نے بھی ہوائی جہاز میں سفر نہیں کیا تھا۔
چین میں کینیاٹا نے عظیم دیوارِ چین کی سیر کی اور محل عجائب گھر کا دورہ کیا۔ انہوں نے غربت سے لوگوں کو نکالنے کے لئے چین کی مہم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔
افریقی طالبہ کا موم بتی سے روشن کمرے سے چینی زبان کا چیمپئن بننے کا خواب



