بیجنگ (شِنہوا) چین کے شمال مغربی صوبہ شانشی کے شہر آن کانگ میں ژانگ یانگ اور ان کے خاندان کے لئے اس سال کی قومی دن کی تعطیلات یادگار رہیں۔ یکم اکتوبر کو شی آن۔آن کانگ تیز رفتار ریلوے کے افتتاح کے بعد انہوں نے آن کانگ سے براہ راست تیز رفتار ٹرین کے ذریعے یان آن کا سفر کیا جو اپنی انقلابی تاریخ کے حوالے سے مشہور شہر ہے۔
جو سفر پہلے 7 گھنٹے سے زیادہ وقت لیتا تھا اب صرف دو گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔
ژانگ کا خاندان یکم سے 7 اکتوبر تک جاری رہنے والی قومی دن کی تعطیلات کے دوران سفر کرنے والے لاکھوں افراد میں شامل تھا۔ یہ چین میں سفر اور خریداری کے مصروف ترین ادوار میں سے ایک ہے۔
وزارت ٹرانسپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق تعطیلات کے پہلے تین دنوں میں ہر روز مختلف علاقوں کے درمیان سفری دوروں کی تعداد 30 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ چائنہ اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ (چائنہ ریلوے) نے بتایا کہ یکم اکتوبر کو ملک بھر میں ریلوے کے ذریعے مسافروں نے 2 کروڑ 52 لاکھ سے زائد سفری دورے کئے تھے جو ایک دن میں مسافروں کی تعداد کا نیا ریکارڈ ہے۔
چین جیسے وسیع ملک میں تعطیلات کے دوران کروڑوں لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ایک بڑے پیمانے کا کارنامہ ہے جس کے پیچھے کئی دہائیوں میں قائم کیا جانے والا وسیع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے۔
2025 کے اختتام تک چین کا جامع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک 60 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ طویل ہو چکا تھا جس میں دنیا کا سب سے بڑا تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ تیز رفتار ریلوے، ایکسپریس ویز، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔
یہ نیٹ ورک مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ 28 ستمبر کو چین نے ملک کے شمالی، شمال مغربی، وسطی اور شمال مشرقی علاقوں میں تیز رفتار ریلوے کے چار بڑے حصے کھولے، جن کی مجموعی لمبائی 1,100 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ان نئی ریلوے لائنوں سے سفر کا وقت مزید کم ہوا ہے اور ژانگ کے خاندان جیسے لوگوں کے لئے مزید مقامات تک پہنچنا آسان ہو گیا ہے۔
چین میں ٹرانسپورٹ کی ترقی صرف تیز تر سفر تک محدود نہیں۔ بہتر معاون سہولیات بھی سفر کو زیادہ آسان بنا رہی ہیں۔
نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں (این ای ویز) چینی گھرانوں میں تیزی سے عام ہو رہی ہیں اور اب طویل فاصلے کے سفر کے لئے بھی مقبول انتخاب بن گئی ہیں۔ وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق تعطیلات کے دوران ایکسپریس ویز پر این ای ویز کا سفر معمول کے مقابلے میں 1.8 گنا تک بڑھنے کی توقع ہے جس سے چارجنگ کی سہولیات کی طلب میں اضافہ ہوگا۔
چین میں چارجنگ کی وسیع سہولتیں اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ ملک میں اب برقی گاڑیوں کی 2 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ چارجنگ کی سہولیات موجود ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا ای وی چارجنگ نیٹ ورک ہے۔ شاہراہوں کے سروس ایریاز میں چارجنگ کی سہولیات مجموعی طور پر تقریباً 89 ہزار ہیں اور تقریباً تمام سروس ایریاز ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔
تعطیلات کے دوران بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹنے کے لئے اہم سروس ایریاز میں ہنگامی موبائل چارجنگ یونٹس بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ ڈرائیوروں کو بھی ترغیب دی جا رہی ہے کہ گاڑی کی بیٹری 80 فیصد تک چارج ہونے کے بعد وہاں سے روانہ ہو جائیں تاکہ دیگر گاڑیوں کے لئے چارجنگ کی سہولت جلد دستیاب ہو سکے۔
تیز تر رابطوں اور زیادہ آسان سہولیات کی وجہ سے مسافروں کے لئے ایک ہی سفر میں مزید مقامات کی سیر کرنا آسان ہو گیا ہے۔ آن لائن سفری پلیٹ فارم چھونار کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 فیصد مسافروں نے کم از کم دو شہروں میں ہوٹل بک کرائے جبکہ چار یا اس سے زیادہ شہروں میں قیام پر مشتمل بکنگ میں سالانہ بنیاد پر 53 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ رجحان چین کی سرحدوں سے باہر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ روابط سرحد پار سفر میں اضافے میں مدد دے رہے ہیں۔ چینی ایئر لائنز 80 ممالک کے 177 شہروں کو ملانے والے باقاعدہ بین الاقوامی مسافر فضائی روٹس چلا رہی ہیں۔
بیرون ملک سفر کے حوالے سے چھونار کے اعداد و شمار کے مطابق تعطیلات کے دوران ایک سے زیادہ ممالک کے سفر کے لئے ہوٹل بکنگ میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ٹرپ ڈاٹ کام گروپ کے مطابق چین آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ ہوا۔ وسط خزاں کے تہوار اور قومی دن کی تعطیلات کے دوران ایک روزہ سیاحتی دوروں کی بکنگ میں چار گنا سے زیادہ جبکہ ٹرین ٹکٹوں کی بکنگ میں سالانہ بنیاد پر 170 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
لاکھوں مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے والا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سامان کی نقل و حرکت بھی جاری رکھے ہوئے ہے، کاروباری اداروں اور منڈیوں کو آپس میں جوڑ رہا ہے اور ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔
چین میں تعطیلات کے دوران سفری سرگرمیاں مضبوط ٹرانسپورٹ اور معاشی سرگرمیوں کی عکاس



