اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی تیسری برسی سے قبل غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
گوتریس نے تیسری برسی کے موقع پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا کہ ان حملوں کی ہولناکیاں دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جانی چاہئیں اور غزہ میں اس کے بعد شروع ہونے والی دشمنیاں بھی ختم ہونی چاہئیں۔
7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مسلح گروپ حماس نے غزہ سے اسرائیل پر حملہ کیا جس میں تقریباً ایک ہزار 200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف جنگ شروع کی جس میں کم از کم 74 ہزار فلسطینی ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ’’ان حملوں کے بعد ہونے والی تباہ کن مخاصمت نے غزہ میں فلسطینیوں کو ناقابل بیان مصائب سے دوچار کیا ہے جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، بے گھر ہونا اور تباہی شامل ہے۔ شہری اب بھی ناقابل برداشت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی تکالیف کا بھی اب خاتمہ ہونا چاہیے۔‘‘
گوتریس نے کہا کہ گزشتہ سال طے پانے والی جنگ بندی سے کچھ حد تک راحت ملی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اب تک نہ تو سکیورٹی فراہم ہو سکی ہے، نہ ہی مناسب انسانی امداد پہنچ سکی ہے اور نہ ہی بحالی اور امن کی جانب کوئی قابل اعتماد راستہ سامنے آیا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ ’’میں تمام فریقوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عملدرآمد کریں اور جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ بندی مستقل ہو جائے۔ بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے اور بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جائے۔‘‘
اقوام متحدہ کے سربراہ کا غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ



