بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کے حصول کی کوشش کرنے والی علیحدگی پسند سرگرمیوں کی اٹل مخالفت اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام برقرار رکھنا چین اور امریکہ دونوں کے مشترکہ مفادات کے عین مطابق ہے۔
ریاستی کونسل کے امور تائیوان دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے یہ بات بدھ کے روز ایک معمول کی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہی۔ ان سے چین۔امریکہ تعلقات میں تائیوان کے معاملےکے کردار کے حوالے سے حالیہ بحث کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
ژانگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تائیوان کے معاملے کو چین کے بنیادی مفادات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور چین۔امریکہ سیاسی تعلقات کا سنگ بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تائیوان کے معاملے کو مناسب طریقے سے حل کرنے سے چین۔امریکہ تعلقات میں مجموعی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ اسے غلط طریقے سے نمٹانے سے محاذ آرائی بلکہ تنازع بھی جنم لے سکتا ہے اور دوطرفہ تعلقات کو انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔
ژانگ نے کہا کہ لائی چھنگ تے کی قیادت میں تائیوان کے حکام اپنے علیحدگی پسند موقف پر قائم ہیں اور 1992 کے اتفاق رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، جو ایک چین کے اصول کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ وہ بارہا ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کے حصول کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔
ژانگ نے کہا کہ ’’یہ آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو درپیش خلل کا بنیادی ذریعہ ہے۔‘‘ انہوں نے آبنائے تائیوان کے دونوں جانب کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مل کر قومی وحدت کے فروغ کے لئے کام کریں۔
تائیوان کا معاملہ تقریباً 8 دہائیاں قبل کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) اور چینی کومن تانگ (کے ایم ٹی) کی قیادت میں فورسز کے درمیان لڑنے والی مکمل خانہ جنگی سے پیدا ہوا۔ 1949 میں شکست خوردہ کومن تانگ کے بچے کھچے عناصر تائیوان چلے گئے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کی بنیاد رکھی ۔
غیر حل شدہ خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت نے آبنائے تائیوان کے دونوں جانب طویل عرصے سے سیاسی محاذ آرائی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے، تاہم تائیوان چین کے علاقے کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے، اس حقیقت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایک الگ سوال کے جواب میں تائیوان کے ایک سیاست دان کے اس الزام پر کہ مین لینڈ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کی دانستہ غلط تشریح کرتے ہوئے تائیوان کو بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت سے روک رہا ہے، ژانگ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ قرارداد 2758 میں واضح کیا گیا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کے قانونی حقوق کی بحالی اقوام متحدہ کے منشور کے تحفظ اور منشور کے تحت اقوام متحدہ کے فرائض کی انجام دہی، دونوں کے لئے ضروری ہے۔
ژانگ نے مزید کہا کہ قرارداد 2758 کو مسخ کرنے اور اس پر بار بار حملہ کرنے، نیز اقوام متحدہ کے اختیار اور جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے کی تائیوان کے حکام کی کوششوں کی ناکامی یقینی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1971 میں بھاری اکثریت سے قرارداد 2758 منظور کی تھی، جس میں واضح کیا گیا کہ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت پورے چین کی نمائندگی کرنے والی واحد قانونی حکومت ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تناظر میں اس قرارداد نے ’’2 چین‘‘ یا ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔
’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی اٹل مخالفت چین اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کے عین مطابق ہے، ترجمان چینی مین لینڈ



