ارمچی (شِنہوا) چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں آبی تحفظ کے داشی شیا منصوبے کے پہلے پیداواری یونٹس کو گرڈ سے منسلک کرکے بجلی کی پیداوار شروع کردی گئی ہے۔
سنکیانگ کے آکسو پریفیکچر میں وین سو گرینڈ کینین میں واقع اس آبی منصوبے کا 247 میٹر بلند ڈیم اس وقت ریت و بجری سے بنا دنیا کا سب سے بلند کنکریٹ فیسڈ ڈیم ہے۔ منصوبے کے تعمیر کنندہ چائنہ گیزوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مطابق یہ ڈیم اس نوعیت کا دنیا کا بلند ترین ڈیم ہے۔
منصوبہ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ 1.89 ارب کلو واٹ آور سے زیادہ بجلی پیدا کرسکے گا، جو تقریباً 6 لاکھ گھرانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوگی۔
یہ منصوبہ ہر سال دریائے تارم میں 3.42 ارب مکعب میٹر پانی بھی پہنچائے گا، جس سے 68 لاکھ مو (تقریباً 4 لاکھ 53 ہزار 333 ہیکٹر) سے زائد زرعی اراضی میں پانی کی قلت کم ہوگی، جبکہ سیلاب سے بچاؤ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ اور سنکیانگ کے جنوبی علاقے میں زرعی جدت کو بھی بڑی تقویت ملے گی۔
منصوبے کے منیجر سونگ شیاؤ جیان نے بتایا کہ تعمیر کے دوران کنکریٹ سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے اور نقل و حمل کے انتظام کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جس سے منصوبے کے معیار اور ریکارڈ کی نگرانی یقینی بنائی گئی۔
منصوبے کے معیار اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے سے وابستہ یانگ یان لنگ نے بتایا کہ منصوبے کے تعمیر کنندہ نے مچھلیوں پر اثرات کم کرنے کے لئے ماحولیاتی تحفظ کے مختلف اقدامات پر 6 کروڑ 50 لاکھ یوآن (تقریباً 96 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر) خرچ کئے، جو مقررہ وقت سے پہلے ہی فعال کردیئے گئے۔
یانگ نے مزید بتایا کہ اب تک مصنوعی افزائش کے ذریعے مجموعی طور پر ایک لاکھ 41 ہزار مچھلیاں پانی میں چھوڑی جاچکی ہیں۔
چین کے سنکیانگ میں آبی تحفظ کے بڑے منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع



