اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں حیدر بیگ کے والد کبھی ایک چھوٹی سی تحائف کی دکان چلاتے تھے، جس سے انہیں زیادہ تر آمدنی جون اور جولائی کے سیاحتی سیزن میں حاصل ہوتی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سڑکوں کے بہتر رابطوں کے باعث ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد نے اس خاندانی کاروبار کو بدل کر رکھ دیا ہے۔سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے بیگ نے کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد کہیں اور ملازمت تلاش کرنے کے بجائے اپنے والد کے کاروبار کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔ آج ان کا خاندان شگر کے مرکزی علاقے میں ’’دی بیگز ٹریژر‘‘ کے نام سے ایک بہت بڑی تحائف کی دکان چلا رہا ہے۔بیگ نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’سڑکوں کے بہتر رابطوں کی وجہ سے سفر سستا ہوگیا ہے اور اب جنوبی صوبہ سندھ سے بھی لوگ بڑی تعداد میں شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ پہلے صرف وہ امیر لوگ یہاں آسکتے تھے جو فضائی سفر کے اخراجات برداشت کرسکتے تھے لیکن اب سی پیک بتدریج اس صورتحال کو بدل رہا ہے۔ بہتر سڑکوں کی بدولت متوسط آمدنی والے خاندانوں کی بڑی تعداد بھی پہاڑی علاقوں کا رخ کرتی اور وہاں وقت گزارتی ہے۔بیگ اکیلے نہیں ہیں۔ پورے خطے میں سڑکوں کے بہتر رابطوں نے مقامی کاروبار کو وسعت دینے میں مدد دی ہے کیونکہ زیادہ سیاح ان مقامات کا سفر کر رہے ہیں جو پہلے دور دراز اور نسبتاً ناقابل رسائی سمجھے جاتے تھے۔پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان رانا نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’سی پیک نے پاکستان میں ملکی سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کے جنوبی، مشرقی اور شمالی حصوں کو ملانے والے وسیع سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر سے ان علاقوں تک رسائی بہتر ہوئی ہے جو پہلے دور دراز اور پسماندہ سمجھے جاتے تھے۔پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مطابق 392 کلومیٹر طویل سکھر-ملتان موٹروے نے پنجاب اور سندھ کے درمیان سڑک کے ذریعے سفر کو مختصر اور زیادہ آسان بنا دیا ہے، جبکہ قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کے 120 کلومیٹر طویل حویلیاں-تھاکوٹ حصے نے خوبصورت شمالی علاقوں کی جانب رابطے ککو بہتر کیا ہے۔زیادہ سیاحوں کی آمد کے ساتھ ہوٹلوں اور ریستورانوں سے لے کر ٹرانسپورٹ سروسز، دستکاری اور پرچون دکانوں تک مختلف کاروبار سیاحت کی بڑھتی ہوئی معیشت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ملک کے جنوبی ساحلی شہر کراچی سے گزشتہ ماہ اپنے خاندان کے ہمراہ سڑک کے ذریعے گلگت کا سفر کرنے والے سیاح محمد علی نے شِنہوا کو بتایا کہ سڑکوں میں بہتری کے باعث سفر کا وقت کم ہونے کے بعد ایک دوست نے انہیں اس سفر کا مشورہ دیا تھا۔علی نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’ہم ایک خاندان کے طور پر شمالی علاقوں کی سیر کرنا چاہتے تھے، لیکن طویل سفر اور فضائی سفر کے زیادہ اخراجات نے ماضی میں ہمیں روک دیا تھا۔ سڑکوں میں بہتری کے بعد کار کے ذریعے سفر زیادہ سستا اور آسان ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفر خود بھی تجربے کا حصہ بن گیا ہے، کیونکہ ان کا خاندان راستے میں مختلف مقامات پر رک سکتا ہے اور مقامی ریستورانوں اور دکانوں پر خرچ کرسکتا ہے۔ملک کے مشرقی صوبے پنجاب کا ضلع ملتان اس بات کی ایک اور مثال پیش کرتا ہے کہ بہتر رابطے کس طرح پاکستان کے سیاحتی اور مہمان نوازی کے شعبے کو تبدیل کر رہے ہیں۔کبھی جنوبی پنجاب کے ایک تاریخی اور تجارتی مرکز کے طور پر معروف ملتان اب ملک کے مختلف حصوں کے درمیان سفر کرنے والے کاروباری افراد کے لئے ایک اہم پڑاؤ بنتا جا رہا ہے۔ملتان کے ایک ٹور آپریٹر فرحان حسین نے شِنہوا کو بتایا کہ سڑکوں کے بہتر رابطوں نے کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور دیگر مسافروں کے لئے شہر تک رسائی آسان بنا دی ہے، جس کے نتیجے میں ایسے مسافروں کی مسلسل آمد جاری ہے جنہیں قیام، کھانے اور کاروباری ملاقاتوں کے لئے جگہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’سی پیک کے باعث ملتان کے مہمان نوازی کے شعبے میں آنے والی تبدیلی واضح طور پر نظر آتی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لئے متعدد نئے ہوٹل اور ریستوران قائم ہوئے ہیں۔ شمالی علاقوں کے برعکس ملتان نہ تو بنیادی طور پر تفریحی مقام ہے اور نہ ہی سیاحت کا بڑا مرکز۔ اس کے باوجود بالخصوص کاروبار اور خریداری کے لئے شہر آنے والے مسافروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔مقامی کاروباری افراد کے لئے سیاحوں اور مسافروں کی بڑھتی ہوئی آمد کا مطلب صارفین کی بڑی تعداد اور ایسے کاروبار کو وسعت دینے کے نئے مواقع ہیں جو پہلے زیادہ تر مقامی گاہکوں پر انحصار کرتے تھے۔حسین نے کہا کہ ’’ملتان کی دستکاریاں، روایتی ملبوسات اور زیورات اپنے ڈیزائن اور معیار کے لحاظ سے منفرد ہیں۔ ماضی میں شہر میں زیادہ تر تھوک فروش آتے تھے، جو یہ مصنوعات خرید کر ملک کے دیگر حصوں میں لے جاتے تھے۔ تاہم سڑکوں کے بہتر رابطوں کے باعث اب ہم ایسے حتمی صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ رہے ہیں جو براہ راست شہر آتے ہیں اور خریداری کے لئے اس کی مارکیٹوں میں بڑی تعداد میں پہنچتے ہیں۔گلگت بلتستان کی گھومتی ہوئی سڑکوں سے لے کر ملتان کے بڑھتے ہوئے ہوٹلوں کے شعبے تک سی پیک کے تحت بہتر رابطے پاکستان بھر میں لوگوں، کاروباروں اور منڈیوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں، جس سے سیاحت مختلف برادریوں کے لئے آمدنی اور کاروبار کے مواقع کا ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔
سی پیک کے تحت رابطوں میں بہتری سے پاکستان کی سیاحت اور مقامی کاروبار کو نئی تحریک ملی



