اقوام متحدہ (شِنہوا) چین کے ایک مندوب نے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ جاپان کی دوبارہ عسکریت پسندی کے پیش نظر اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود ’’دشمن ریاست کی شقوں‘‘ کو نہ تو تبدیل کیا جانا چاہیے اور نہ ہی حذف کیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عمومی بحث میں جواب دینے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے کہا کہ جاپان نے 22 ستمبر کو مباحثے کے دوران دیئے گئے اپنے بیان میں اپنی ’’صرف دفاع پر مبنی پالیسی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ’’دشمن ریاست کی شقوں‘‘ کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چینی مندوب نے کہا کہ چین جاپان کے اس مطالبے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان نے اپنی عسکریت پسندانہ جرائم کو تسلیم کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو مکمل طور پر قبول کرنے کے بعد اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
سن لی نے کہا کہ جنگ کے بعد جاپان کا نظام اپنی جارحیت کی تاریخ پر گہری خود احتسابی اور عسکریت پسندی سے واضح طور پر قطع تعلقی پر منحصر ہے۔ تاہم 80 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی وزیراعظم سنائی تاکائیچی کی انتظامیہ نے خود احتسابی کے بجائے جاپان کے جنگی جرائم کو قابل فخر بنا کر پیش کرنے اور ان پر پردہ ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ ہمسایہ ممالک سے لاحق خطرات کے بارے میں بیانیے گھڑ کر اپنی فوجی صلاحیتوں میں جاری توسیع کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔
سن لی نے نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں جاپان نے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے، مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندیوں میں نرمی کی ہے، درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تنصیب کو آگے بڑھایا ہے۔جاپان نے جارحانہ فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے، حساس جوہری مواد کے بڑے ذخائر جمع کئے ہیں، اپنے امن پسند آئین میں ترمیم کی کوشش کی ہے، 3 غیر جوہری اصولوں سے دستبردار ہونے کی کوشش کی ہے اور حتیٰ کہ ’’جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھنے والی ریاست‘‘ بننے کے لئے بھی آواز اٹھائی ہے۔
سن لی نے کہا کہ ’’یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ جاپان کی دوبارہ عسکریت پسندی علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لئے ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود ’’دشمن ریاست کی شقیں‘‘ برقرار رہنی چاہئیں، چینی مندوب



