سنگاپور (شِنہوا) پبلک پالیسی کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ملاقات نے تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی چین امریکہ تعلقات میں نئی روح پھونک دی ہے جس سے پوری دنیا میں مزید استحکام آنے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے لی کوآن ییو سکول آف پبلک پالیسی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر گو چھنگ یانگ نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں صدور نے باہمی احترام، انصاف اور مساوات کی بنیاد پر تزویراتی مستحکم تعلقات کی تعمیر پر اتفاق کر کے دنیا کو تنازعات منصفانہ طریقے سے حل کرنے کا ایک نمونہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نئے منظرنامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور امریکہ ایک دوسرے کے ترقیاتی راستوں اور بنیادی مفادات کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کی ترقی کے لئے معقول گنجائش کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اختلافات حل کرنے کے خواہاں ہیں۔
گو نے کہا کہ اس سے ایک دوسرے کو مساوی شراکت دار سمجھنے، باہمی مفادات کا حصول اور حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے کے عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
گو نے کہا کہ یہ صورتحال پیچیدہ بین الاقوامی ماحول کے لئے نئے خیالات پیش کرتی ہے اور ایک پریشان حال دنیا کو استحکام کی ایک قابل اعتماد ضمانت فراہم کرتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ملک کا حجم یا طاقت کیا ہے، دوسرے کے نقصان کے بدلے اپنے فائدے کے بجائے اختلافات برابری کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور تنازعات سے نمٹنا چاہیے۔
گو نے کہا کہ صدر شی کا یہ کہنا کہ چین اور امریکہ کے تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کا قیام کوئی عارضی اقدام ہے اور نہ ہی یہ راتوں رات حاصل ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے چین کے نقطہ نظر کی ایک اہم خصوصیت یعنی طویل المدتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تبادلہ و تعلیمی پروگراموں کے تحت چین کا دورہ کرنے کی دعوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے دونوں ممالک کے تمام شعبوں اور سطحوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے دیرپا روابط قائم کئے جا سکیں۔
گو کا کہنا تھا کہ یہ درحقیقت نوجوان نسل کی شمولیت اور دونوں ملکوں کے عوام کے مابین پائیدار تعلقات استوار کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ جیسی دو بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے کے خدشات اور مفادات کو سمجھنے اور ایسے تعلقات استوار کرنے کے لئے تمام محاذوں پر رابطہ کاری کی ضرورت ہے جہاں ان کے مفادات ایک دوسرے کے لئے تقویت کا باعث بنیں۔
انہوں نے کہا کہ آسیان ممالک چین اور امریکہ کے درمیان کھل کر بات چیت کا خیرمقدم کرتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ اس سے علاقائی اور عالمی ماحول زیادہ مستحکم اور یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
شی اور ٹرمپ کی ملاقات سے عالمی استحکام میں بہتری کی توقعات بڑھ گئیں، دانشور



