پاک۔چین کہانیاں |ایک چاند، مشترکہ آرزو: پاکستانی طلبہ چین میں وسط خزاں تہوار پر ملاپ کی روایت میں ڈھل گئے

تیانجن (شِنہوا) اس سال وسط خزاں کے تہوار کی رات تیانجن یونیورسٹی کی ایک لیبارٹری میں مون کیکس کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ پاکستانی طالب علم محمد ذیشان فرید اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے مون کیکس کے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر سب میں تقسیم کر رہے تھے۔
چین میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزارنے کے باعث وہ روایتی چینی تہواروں کی رونق اور گہماگہمی کے عادی ہو چکے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران ان کے چینی دوست انہیں بارہا تہواروں کے موقع پر اپنے گھروں میں مدعو کرتے رہے جس سے انہیں ایک اجنبی ملک میں خاندان جیسی اپنائیت اور گرمجوشی محسوس ہوئی۔
تیانجن یونیورسٹی میں سرکٹس اور سسٹمز کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے والے فرید نے کہا کہ ’’مجھے خاص طور پر اس بات نے متاثر کیا کہ انہوں نے میرے ساتھ محض ایک غیر ملکی طالب علم کی طرح نہیں بلکہ خاندان کے ایک فرد کی طرح برتاؤ کیا۔‘‘
گزشتہ وسط خزاں تہواروں کی یادوں نے انہیں اس یقین تک پہنچایا ہے کہ ’’میرے لئے وسط خزاں کا تہوار صرف خونی رشتوں والے خاندان کے افراد کے ساتھ اکٹھا ہونے کا نام نہیں بلکہ ان تعلقات اور دوستیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا موقع بھی ہے جو ہم اپنی زندگی کے دوران قائم کرتے ہیں۔‘‘
چینی قوم کے اہم ترین روایتی تہواروں میں شمار ہونے والا وسط خزاں کا تہوار قدیم زمانے کی چاند کی پوجا سے متعلق روایات سے شروع ہوا جب لوگ اچھی فصل اور امن کے لئے دعائیں کرتے تھے۔ تانگ سلطنت (618-907) کے دور تک چاند کی پوجا بتدریج چاند کے نظارے میں تبدیل ہوگئی جبکہ سونگ سلطنت (960-1279) کے دور میں یہ باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ تہوار بن گیا۔
تیانجن یونیورسٹی کے سکول آف ہیومینٹیز اینڈ آرٹس میں ایسوسی ایٹ پروفیسر وانگ یی کا خیال ہے کہ یہ تہوار ہزاروں سال سے اس لئے برقرار ہے کیونکہ اس کا تعلق زمین اور روزمرہ زندگی سے گہرا ہے۔ چاند دیکھنے، پہیلیاں بوجھنے، فائر ڈریگن ڈانس اور کیکڑے کھانے جیسی روایات، جنہیں دیکھا، چکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے، تجریدی اور گہرے جذبات کو عملی شکل دیتی ہیں۔
30 سالہ پاکستانی طالبہ ریشیل کے لئے وسط خزاں کا تہوار کبھی صرف کتابوں اور انٹرنیٹ تک محدود تھا جہاں اسے ’’چاند دیکھنے اور مون کیکس کھانے‘‘ کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔ اس سال انہوں نے چینی دوستوں اور ہم جماعتوں کے ساتھ وسط خزاں کی سرگرمیوں میں شرکت کی، چاند کو دیکھا، مون کیکس کھائے اور اپنے اپنے آبائی علاقوں میں خاندان کے دوبارہ مل بیٹھنے کی کہانیاں ایک دوسرے سے شیئر کیں۔
انہیں سب سے زیادہ چینی عوام کے ’’دوبارہ ملاپ‘‘ کے تصور سے گہرا لگاؤ متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کام کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، بہت سے چینی لوگ اپنے خاندان کے ساتھ کھانا کھانے کے لئے گھر واپس جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریشیل نے کہا کہ ’’اس سے مجھے حقیقی طور پر سمجھنے میں مدد ملی کہ چینی ثقافت میں ’دوبارہ ملاپ‘ کا تصور کتنا اہم ہے۔‘‘
چونکہ ان کا خاندان پاکستان میں ان سے بہت دور ہے، اس لئے چاند کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں اپنا گھر یاد آیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وسط خزاں کے تہوار نے مجھے سکھایا ہے کہ دوبارہ ملنا صرف جسمانی طور پر ایک ساتھ ہونے کا نام نہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے سے ہزاروں کلومیٹر دور بھی ہوں لیکن ایک دوسرے کو یاد کرتے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوں تو یہ بھی ایک طرح کا ملاپ ہے۔‘‘
دونوں پاکستانی طلبہ کو اپنی ثقافت میں بھی اس تہوار کے جذبات کی جھلک نظر آتی ہے۔ پاکستان میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر لوگ رشتہ داروں اور دوستوں سے ملتے ہیں، کھانا بانٹتے ہیں، تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے لئے دعائیں اور نیک خواہشات بھیجتے ہیں۔
فرید نے کہا کہ پاکستانی تہواروں میں اسلامی ثقافتی اور مذہبی خصوصیات نمایاں ہیں جبکہ وسط خزاں کا تہوار چاند، مون کیکس اور روایتی چینی ثقافت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
فرید نے کہا کہ ’’اگرچہ ثقافتی پس منظر مختلف ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ دونوں روایات کا بنیادی پیغام بہت ملتا جلتا ہے، یعنی لوگ خاندان کی قدر کرتے ہیں، رشتوں کو اہمیت دیتے ہیں اور خاص مواقع پر ایک دوسرے سے محبت اور خیال کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘
ریشیل بھی اسی خیال کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوگوں کی اپنے خاندان سے محبت، دوبارہ ملنے کی خواہش اور دور موجود اپنے پیاروں کی یاد دراصل بہت یکساں ہے۔‘‘
اور یہی وجہ ہے کہ وسط خزاں کا تہوار ثقافتی حدود سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ وانگ نے کہا کہ ’’اپنوں کی یاد، دوبارہ ملنے کی خواہش، فصل کی پیداوار پر شکر گزاری اور امن کی تمنا، یہ صرف چینی عوام کے جذبات نہیں بلکہ انسانیت کے گہرے ترین اور سب سے عزیز جذبات میں شامل ہیں۔ وسط خزاں کا تہوار ان جذبات کا ایک وسیلہ ہے۔‘‘
وانگ نے مزید کہا کہ مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ لوگ اس دن مون کیک کھائیں گے، چاند کی مختلف شکلوں کو پہچانیں گے اور چھانگ ای کے چاند پر جانے کی داستان سنیں گے جبکہ اپنے پیاروں کی یاد اور دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کریں گے۔
تیانجن فارن سٹڈیز یونیورسٹی کے سکول آف کمیونیکیشن میں نائب ڈین لی نان نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ لی نے کہا کہ ’’چاند پوری انسانیت کے لئے ایک مشترکہ قدرتی علامت ہے۔ وسط خزاں کا تہوار اپنے ساتھ دوبارہ ملنے، امن اور عزیز رشتوں کی جو تمنائیں لے کر آتا ہے، وہ جغرافیہ، نسل اور ثقافت کی حدود سے بالاتر ہیں۔‘‘
ریشیل کے لئے یہ محض ایک مجرد خیال نہیں۔ اگرچہ ان کا خاندان پاکستان میں ہے لیکن جب وہ اسی چاند کی طرف دیکھتی ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ فاصلے نے خاندانی محبت کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ اس نے انہیں اپنے خاندان کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی مزید قدر کرنا سکھایا ہے۔
ریشیل نے کہا کہ ’’ہم کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہم عزیز رکھتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوں اور ہم اہم مواقع پر ان کے ساتھ دوبارہ ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
ایک ہی مکمل چاند کے نیچے، اپنے پیاروں کی یاد اور دوبارہ ملنے کی امید مختلف ممالک اور ثقافتوں کو جوڑنے والی ایک مشترکہ زبان بنتی جا رہی ہے۔



  تازہ ترین   
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، 35 زخمی
فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم
بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید
بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے
افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار
امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم
نیتن یاہو ہولناک نسل کشی کے معمار، فلسطینیوں بارے جھوٹ پھیلاتے ہیں، ظہران ممدانی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر